امریکا نے ایرانی تیل کی فروخت کی اجازت واپس لے لی، پابندیوں میں نرمی کا جنرل لائسنس منسوخ

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی محکمہ خزانہ نے ایرانی تیل کی پیداوار، ترسیل اور فروخت کی اجازت دینے والا جنرل لائسنس منسوخ کر دیا ہے، جس کے بعد ایران کے خلاف توانائی سے متعلق پابندیاں دوبارہ سخت ہونے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ کے آفس آف فارن ایسیٹس کنٹرول (OFAC) نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ 7 جولائی 2026 سے جنرل لائسنس ایکس منسوخ کر کے اس کی جگہ جنرل لائسنس ایکس ون نافذ کر دیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا نے جنگ کے خاتمے سے متعلق مذاکرات میں پیش رفت کے بعد جون میں ایرانی تیل کی برآمدات پر عائد بعض پابندیوں میں عارضی نرمی کی تھی، جس کے تحت 60 روز کے لیے ایرانی تیل کی پیداوار، ترسیل اور فروخت کی اجازت دی گئی تھی۔
تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایران کی حالیہ کارروائیاں واشنگٹن کے لیے ناقابل قبول ہیں اور ان کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔
امریکی اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھ رہی ہے، جبکہ خطے میں توانائی کی سپلائی اور عالمی تیل کی منڈیوں پر ممکنہ اثرات کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔



