نکولس مادورو کی اہلیہ کی طبیعت بگڑ گئی، امریکی عدالت سے گھر میں نظر بندی کی درخواست

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) وینزویلا کے سابق صدر نکولس مادورو کی اہلیہ سیلیا فلورس نے دل کی بگڑتی ہوئی بیماری کے باعث امریکی وفاقی عدالت سے حراست ختم کرکے مین ہٹن میں گھر پر نظر بند رکھنے کی درخواست کردی۔

سیلیا فلورس کے وکلا کے مطابق جنوری میں وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی کے بعد حراست میں لیے جانے کے دوران ان کی دل کی حالت مزید خراب ہوئی۔ عدالت میں جمع کرائی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ وہ پہلے مائٹرل والو پرولاپس کے علاج کے لیے ماہانہ انجیکشن لیتی تھیں، تاہم اب انہیں متعدد ادویات استعمال کرنا پڑ رہی ہیں۔

درخواست کے مطابق سیلیا فلورس اس وقت اسپرین، اسٹیٹن، ڈلٹیا زیم اور نائٹروگلسرین سمیت مختلف ادویات لے رہی ہیں۔ وکلا کا کہنا ہے کہ بیرونی طبی ماہرین کے مطابق وہ دورانِ حراست ہلکے درجے کے ہارٹ اٹیک کا بھی شکار ہوئی ہیں۔

وکلا کے مطابق ڈاکٹروں نے دل کے علاج کے لیے ایک طبی طریقہ کار تجویز کیا ہے جبکہ مستقبل میں مزید سرجری کی ضرورت بھی پیش آسکتی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ایسے علاج کے بعد صحت یابی کے لیے حراستی مرکز موزوں ماحول فراہم نہیں کرسکتا۔

سیلیا فلورس کے وکلا نے عدالت کو تجویز دی ہے کہ انہیں مین ہٹن کی ایک رہائش گاہ منتقل کیا جائے، جہاں وہ سخت عدالتی نگرانی میں رہیں گی۔ مجوزہ انتظام کے تحت ان کی 24 گھنٹے مسلح نگرانی کی جائے گی جبکہ ملاقات کرنے والے افراد کے لیے عدالت اور وفاقی استغاثہ سے پیشگی اجازت لینا ضروری ہوگا۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ رہائش گاہ کی ویڈیو کے ذریعے نگرانی کی جائے گی اور ٹیلی فون کالز بھی ریکارڈ کی جائیں گی۔

سیلیا فلورس اور نکولس مادورو اس وقت نیویارک میں زیرحراست ہیں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے دونوں پر منشیات اور ہتھیاروں سے متعلق الزامات عائد کیے ہیں۔ دونوں نے الزامات مسترد کرتے ہوئے خود کو بے قصور قرار دیا ہے، جبکہ مقدمے کی سماعت آئندہ سال جون میں مقرر ہے۔

امریکی وفاقی جج ایلون کے ہیلرسٹین نے سیلیا فلورس کی گھر میں نظر بندی کی درخواست پر تاحال فیصلہ نہیں سنایا۔

مزید خبریں

Back to top button