سريندر ولاسائي کا نوٹس: ننگرپارکر کے قریب ستسنگ پر حملے کے معاملے میں 6 افراد کے خلاف مقدمہ درج، تفتیش شروع

تھرپارکر(رپورٹ : میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) ضلع تھرپارکر کی تحصیل ننگرپارکر کے گاؤں کارسر میں ستسنگ سے شروع ہونے والا تنازع ایک بڑے جھگڑے کی صورت اختیار کر گیا، جس کے نتیجے میں میگھواڑ برادری کے افراد پر مبینہ حملہ کیا گیا اور خواتین سمیت کئی افراد شدید زخمی ہوگئے۔ پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے۔

گاؤں کارسر کے رہائشی مدعی ہمتھو ولد گنیشو میگھواڑ نے اپنے رشتہ داروں کے ہمراہ تھانہ ننگرپارکر پہنچ کر ایف آئی آر نمبر 16/2026 درج کرائی۔ مقدمہ پاکستان پینل کوڈ (PPC) کی دفعات 147، 148، 153، 296، 504 اور 337F(i) کے تحت درج کیا گیا ہے۔

مدعی نے پولیس کو دیے گئے بیان میں بتایا کہ 20 مئی 2026 کی شام میگھواڑ برادری کی جانب سے گھروں کے باہر حسبِ روایت مذہبی گیتوں (ستسنگ) اور خیرات کا پروگرام منعقد کیا گیا تھا۔ ستسنگ کے دوران گاؤں کے عام لوگ جمع تھے اور لاؤڈ اسپیکر پر مذہبی گیت چل رہے تھے۔ اسی دوران ملزمان پونم سنگھ، پریم سنگھ، امسنگھ ولد حکمون، کارو ولد ہیمراج، بھومسنگھ اور ہمیر سنگھ وہاں پہنچے اور لاؤڈ اسپیکر بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے سخت اعتراض کیا۔

مدعی کے مطابق ملزمان نے مذہبی گیتوں کی بے حرمتی کرتے ہوئے کہا کہ یہ گیت انہیں تکلیف پہنچاتے ہیں۔ فریقِ مخالف کے اعتراض پر اسپیکر بند کرنے کے باوجود ملزمان مبینہ طور پر گھروں میں داخل ہوگئے اور لاٹھیوں، کلہاڑیوں اور مکوں سے حملہ کردیا۔

حملے کے نتیجے میں میگھواڑ برادری کے متعدد افراد زخمی ہوگئے، جبکہ خواتین کو بھی مکوں اور لاٹھیوں سے نشانہ بنایا گیا اور ان کی بے حرمتی کی کوشش کی گئی۔

پولیس کارروائی کے دوران زخمیوں کو علاج کے لیے ننگرپارکر اور مٹھی کے سول اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ پولیس نے ایف آئی آر درج کرنے کے بعد واقعے کی تفتیش ایس آئی پی ذوالفقار علی چانڈیو کے حوالے کردی ہے۔ پولیس کے مطابق قانون ہاتھ میں لینے اور مذہبی امن و امان خراب کرنے والوں کو جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔

مزید خبریں

Back to top button