ملک چلانے والوں کو احساس ہو چکا کہ موجودہ نظام مؤثر نہیں رہا، مصطفیٰ کمال

کراچی (جانوڈاٹ پی کے) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ملک چلانے والوں کو احساس ہو چکا ہے کہ موجودہ نظام مؤثر نہیں رہا اور انتظامی یونٹس سمیت نظامِ حکمرانی میں تبدیلی کے حوالے سے ملک میں سنجیدہ مکالمہ جاری ہے۔

کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ دنیا لائف اسٹائل میڈیسن کی جانب بڑھ چکی ہے، لیکن پاکستان کو بھی بیماریوں کے علاج کے ساتھ ساتھ ان سے بچاؤ پر توجہ دینا ہوگی۔ صحت کے شعبے میں اصلاحات صرف حکومت کے ذریعے ممکن نہیں، اس کے لیے نجی شعبے اور جامعات کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

وفاقی وزیرِ صحت کا کہنا تھا کہ اب علاج معالجے کے بجائے احتیاطی تدابیر اور بیماریوں کی روک تھام پر سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے۔ آبادی میں مسلسل اضافے کے باعث صحت کا نظام شدید دباؤ کا شکار ہے اور صرف ہسپتالوں کی تعداد بڑھانا مسئلے کا مکمل حل نہیں، بلکہ مریضوں کی تعداد کم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات بھی ضروری ہیں۔

مصطفیٰ کمال نے صحت کے نظام کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا نظامِ صحت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں ہر سال تقریباً 11 ہزار مائیں دورانِ زچگی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں، جبکہ روزانہ 1300 بچوں کی اموات بھی ایک تشویشناک صورتِ حال ہے۔

چھوٹے انتظامی یونٹس کو مسائل کا حل قرار دے دیا

وفاقی وزیرِ صحت اس سے قبل اسلام آباد میں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کراچی اور سندھ کے مسائل پر بھی تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا ترقی کی نئی منزلیں طے کر رہی ہے، جبکہ کراچی میں کتے کے کاٹنے سے شہریوں کی اموات ہو رہی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کراچی کے 80 فیصد گھروں میں پینے کا پانی دستیاب نہیں اور ڈیفنس سے لے کر کچی آبادیوں تک شہری پانی کی قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کراچی میں رات کے وقت بجلی کی عدم دستیابی اور صبح گیس کی قلت جیسے مسائل بھی موجود ہیں۔ ان کے مطابق کراچی کی آبادی شمار کرنے کے معاملے پر بھی صوبائی حکومت تیار نہیں، جبکہ شہر کی یونیورسٹی روڈ گزشتہ سات برس سے تباہ حال ہے، جس کے باعث پانچ سے سات لاکھ افراد کا کاروبار متاثر ہوا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک کو 70 فیصد ریونیو دینے والے شہر میں بچے گٹروں میں گر کر جان سے جا رہے ہیں اور موبائل فون چھیننے کے دوران نوجوانوں کو قتل کیے جانے کے واقعات بھی تشویشناک ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ کراچی سمیت سندھ اور ملک کے دیگر مسائل کا حل چھوٹے انتظامی یونٹس کے قیام میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر شہر کے مسائل حل ہوتے نظر آئے تو وہ صوبائی حکومت کی حمایت کریں گے۔

مصطفیٰ کمال نے پولی کلینک ٹو اسلام آباد منصوبے کے حوالے سے بتایا کہ یہ منصوبہ آئندہ ایک سال میں مکمل ہو جائے گا اور اس میں فائر سیفٹی سمیت دیگر ضروری اقدامات بھی شامل ہوں گے۔

مزید خبریں

Back to top button