سعودی نصاب سے ’’مسلمان یروشلم سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے‘‘ کا جملہ حذف، نئی تبدیلی نے بحث چھیڑ دی

ریاض(سپیشل رپورٹ:جانو ڈاٹ پی کے)سعودی عرب کے تعلیمی نصاب میں ایک اور نمایاں تبدیلی سامنے آئی ہے۔ سعودی اسکولوں کی درسی کتب میں موجود جملہ ’’مسلمان یروشلم سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے‘‘ اب نئے نصاب میں شامل نہیں رہا۔ اس تبدیلی نے سعودی عرب کی جانب سے گزشتہ چند برسوں کے دوران نصاب میں کی جانے والی اصلاحات اور فلسطین و اسرائیل سے متعلق بیانیے میں آنے والی تبدیلیوں پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

یہ دعویٰ ایک تازہ رپورٹ کے حوالے سے سامنے آیا ہے، جس میں سعودی نصابی کتب کے مختلف ادوار کا تقابلی جائزہ لیا گیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہی جملہ 2023-24 کے سعودی نصاب میں موجود تھا، تاہم بعد کے نصابی جائزوں میں اس کے حذف ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔

“The Muslims will never give up Jerusalem.”

رپورٹ کے مطابق یہ جملہ یروشلم کی اسلامی حیثیت اور مسلمانوں کے شہر سے تعلق کے تناظر میں استعمال کیا گیا تھا۔

اب سامنے آنے والی تازہ رپورٹ کے مطابق یہ عبارت نئے نصاب میں موجود نہیں، جسے سعودی تعلیمی مواد میں جاری وسیع تر تبدیلیوں کے سلسلے کی ایک کڑی قرار دیا جارہا ہے۔

سعودی نصاب میں تبدیلیاں کیوں اہم ہیں؟

سعودی عرب گزشتہ کئی برسوں سے اپنے اسکولوں کے نصاب میں مختلف نوعیت کی اصلاحات کر رہا ہے۔ ان تبدیلیوں میں مذہبی برداشت، یہودیوں اور عیسائیوں سے متعلق بعض متنازع مواد، جہاد اور اسرائیل و صہیونیت سے متعلق اسباق شامل ہیں۔

IMPACT-se کی 2024 کی جامع رپورٹ میں 2019 سے 2024 کے دوران شائع ہونے والی 371 سعودی نصابی کتب کا جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق متعدد ایسے مواد کو حذف یا تبدیل کیا گیا جو مذہبی عدم برداشت، تشدد یا منفی اندازِ بیان سے متعلق تھا۔

اسرائیل اور صہیونیت سے متعلق بھی تبدیلیاں

رپورٹ میں بتایا گیا کہ سعودی نصاب میں اسرائیل اور صہیونیت کے حوالے سے بھی نمایاں تبدیلیاں کی گئیں۔ بعض سابقہ نصوص میں صہیونیت کو ایک ’’نسل پرستانہ یورپی تحریک‘‘ قرار دیا جاتا تھا اور اس پر فلسطینیوں کو بے دخل کرنے اور عرب سرزمین پر قبضے کے عزائم کا الزام لگایا جاتا تھا۔ یہ مواد نئے نصاب میں ختم یا تبدیل کردیا گیا۔

اسی طرح ’’اسرائیلی دشمن‘‘ اور ’’صہیونی دشمن‘‘ جیسی اصطلاحات بھی کئی مقامات پر ختم کی گئیں، اگرچہ نصاب میں اسرائیل کو اب بھی باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا گیا اور بعض حوالوں میں اسے ’’اسرائیلی قبضہ‘‘ یا ’’قابضین‘‘ کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔

فلسطین کا ذکر مکمل طور پر ختم نہیں ہوا

یہ تاثر درست نہیں ہوگا کہ سعودی نصاب سے فلسطین کا ذکر مکمل طور پر ختم کردیا گیا ہے۔ IMPACT-se کی رپورٹ کے مطابق سعودی نصاب اب بھی فلسطینی کاز کا ذکر کرتا ہے، جبکہ بعض جغرافیائی اور تاریخی حوالوں میں فلسطینی علاقوں کا ذکر برقرار ہے۔

تاہم، رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ کچھ نقشوں اور نصوص میں پہلے موجود ’’فلسطین‘‘ کے حوالوں میں تبدیلی کی گئی ہے۔ مثال کے طور پر بعض مواد میں پورے موجودہ اسرائیلی علاقے کو فلسطین کے طور پر ظاہر کرنے والے حوالوں کو منظم انداز میں ہٹایا گیا۔

کیا یہ سعودی عرب کی بڑی پالیسی تبدیلی ہے؟

یہ تبدیلی سعودی عرب کے نصاب کو جدید بنانے اور مذہبی و سیاسی مواد کو ازسرنو مرتب کرنے کے وسیع عمل کا حصہ دکھائی دیتی ہے۔ 2021 میں بھی سعودی درسی کتب کے جائزوں میں متعدد ایسے اسباق کے خاتمے کی نشاندہی ہوئی تھی جن میں یہودیوں، عیسائیوں یا دیگر غیر مسلموں کے بارے میں منفی یا عدم برداشت پر مبنی مواد شامل تھا۔

2022-23 کے جائزے میں بھی IMPACT-se نے کہا تھا کہ سعودی نصاب میں امن، برداشت اور دوسرے مذاہب کے احترام پر زیادہ زور دیا جا رہا ہے اور اسرائیل و صہیونیت سے متعلق کچھ متنازع مواد میں بھی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ’’مسلمان یروشلم سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے‘‘ والا مخصوص جملہ پہلے سعودی نصاب میں موجود تھا اور حالیہ تبدیلیوں میں اس کے حذف ہونے کی اطلاع سامنے آئی ہے، جبکہ فلسطینی کاز اور یروشلم سے متعلق دیگر مواد اب بھی مختلف شکلوں میں سعودی نصاب میں موجود ہے۔

یوں سعودی نصاب میں یہ تبدیلی محض ایک جملے کے حذف ہونے تک محدود نہیں بلکہ گزشتہ چند برسوں سے جاری ایک بڑے تعلیمی اور نظریاتی اصلاحاتی عمل کا حصہ ہے، جس میں مذہبی برداشت، سیاسی بیانیے اور اسرائیل و فلسطین سے متعلق نصابی مواد کو بھی ازسرنو ترتیب دیا جا رہا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button