افغانستان ٹکڑے ٹکڑے:’جنوبی ترکستان ‘ بننےکا اعلان؛ افغان سرحد پر سنسنی خیز ہلچل!

کابل: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے) سابق افغان وزیر دفاع اور ازبک جنگجو رہنما عبدالرشید دوستم کی تنظیم ‘جنبش ملی اسلامی’ کی جانب سے ایک انتہائی سنسنی خیز اور چونکا دینے والا اعلان سامنے آیا ہے جس نے کابل کے ایوانوں میں زلزلہ برپا کر دیا ہے۔ عبدالرشید دوستم کے قریبی ساتھی بشیر احمد تھینج کی طرف سے جاری کردہ اس باقاعدہ بیانیے میں افغان طالبان کی حکومت پر شدید عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان پر ملک میں دہشت گردی پھیلانے اور صرف پشتونوں کو نوازنے کا سنگین الزام لگایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی افغانستان کی حدود کے اندر ایک کروڑ ازبک اور تاجک نسل کے لوگوں کے لیے ‘جنوبی ترکستان’ کے نام سے ایک بالکل نئی، آزاد اور خود مختار ریاست کے قیام کا ہولناک مطالبہ داغ دیا گیا ہے۔
اس سنسنی خیز صورتحال میں اس وقت نیا موڑ آیا جب نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف) نے اس مطالبے کو ہوا دیتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ اس نئی ریاست کی تحریک کے لیے پاکستان سے مدد مانگی جا رہی ہے۔ تاہم باریک بینی سے جائزہ لینے پر معلوم ہوا کہ یہ افغان طالبان کو مشتعل کرنے اور افغان عوام کے قوم پرستانہ جذبات بھڑکا کر ملک کو دوبارہ بدترین خانہ جنگی کی آگ میں دھکیلنے کی ایک گہری بین الاقوامی سازش ہے۔ پاکستان کو اس جنجال پورہ میں گھسیٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ پاکستان کسی بھی صورت پڑوس میں عدم استحکام اور وار لارڈز کی واپسی کا حامی نہیں ہے۔
اس سنسنی خیز سازش اور افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال کی مکمل تفصیلات جاننے کے لیے معروف صحافی معظم فخر کا یہ وی لاگ آخر تک لازمی دیکھیں۔




