اندرونی بغاوت یا نئی سازش؟تہران میں اقتدار کی رسہ کشی شروع

​اسلام آباد: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے)​ایرانی نظام میں دراڑیں پڑنے اور اقتدار کی شدید جنگ شروع ہونے کے سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں جس کے بعد خطے کی صورتحال انتہائی خطرناک رخ اختیار کر گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی پہلی اور دوسری صف کی قیادت کے خاتمے کے بعد اب تیسرے درجے کی قیادت میں اقتدار کی جنگ چھڑ چکی ہے اور امریکہ انہیں بھی نشانہ بنانے کے لیے تیار ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوج نے یکم مئی سے قبل ایران کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں اور امریکی صدر کو کانگریس سے اجازت لینے کی مدت ختم ہونے سے پہلے اعلانِ فتح کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے امریکی طیارہ بردار بحری جہاز جارج ڈبلیو بش ایران کے قریب پہنچ چکا ہے اور ابنائے ہرمز میں کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔

​ذرائع کے مطابق ایران میں اس وقت تین طاقتور شخصیات احمد وحیدی، باقر ذوالقدر اور محسن رضائی عملاً ملک چلا رہے ہیں جبکہ سویلین حکومت بے بس نظر آتی ہے۔ آبنائے ہرمز کے حوالے سے پاسدارانِ انقلاب اور سویلین قیادت کے متضاد بیانات نے ایرانی نظام کے اندرونی خلفشار کو دنیا کے سامنے عیاں کر دیا ہے جہاں فوجی کمانڈروں نے حکومتی وزراء کے احکامات ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ امریکی حکام کا ماننا ہے کہ جب تک ان "آستین کے سانپوں” کو منظر سے نہیں ہٹایا جاتا، خطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ اگر یکم مئی تک اسلام آباد میں جاری مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچتے تو امریکہ ایران کے اہم ترین انفراسٹرکچر، بجلی کے مراکز اور تیل کی تنصیبات پر بمباری کر کے جنگ کے خاتمے اور فتح کا اعلان کر سکتا ہے۔ تہران میں پیدا ہونے والی اس غیر یقینی صورتحال نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے اور عالمی توازن کے بگڑنے کے شدید خطرات پیدا کر دیے ہیں۔

​صحافی معظم فخر کا یہ وی لاگ مکمل دیکھنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں:

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button