میر رضا کیس میں نیا موڑ، بزنس پارٹنر احمد کو اہلخانہ سے ملنے کی ہدایت

کراچی (جانو ڈاٹ پی کے)نوجوان تاجر میر رضا علی کے قتل کیس کی جوڈیشل انکوائری میں اہم پیش رفت سامنے آگئی، کمیشن نے سابق تفتیشی افسر شبیر لغاری کی کارکردگی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پولیس تفتیش میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کردی، جبکہ بزنس پارٹنر احمد بھاردے کو بھی میر رضا کے اہلخانہ سے ملاقات کرکے ان کے سوالات کے جواب دینے کا مشورہ دے دیا۔
سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں قائم جوڈیشل کمیشن کے روبرو سابق تفتیشی افسر شبیر لغاری سے کیس کی تفتیش، شواہد جمع کرنے، جائے وقوعہ، سی سی ٹی وی فوٹیجز، موبائل فون اور دیگر اہم شواہد سے متعلق سخت سوالات کیے گئے۔
جسٹس عمر سیال نے سابق تفتیشی افسر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پوسٹ مارٹم سے لے کر شواہد جمع کرنے تک ان کا کوئی کردار نظر نہیں آیا، وہ تھانے میں بیٹھے رہے اور دوسروں کی تیار کردہ دستاویزات پر دستخط کرتے رہے۔ کمیشن نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آیا تفتیشی افسر دیگر پولیس افسران کو بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔
کمیشن نے پولیس کی تفتیش پر سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پولیس نے کیس کو بہت خراب کیا ہے۔ جسٹس عمر سیال کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں ایسے مقدمات بھی ہوتے ہیں جو حل نہیں ہو پاتے، تاہم ان کے ورثا پولیس سے شکایت نہیں کرتے۔
دورانِ سماعت میر رضا کے بزنس پارٹنر احمد بھاردے کو بھی روسٹرم پر طلب کیا گیا۔ کمیشن نے ان کے سابق میڈیا انٹرویوز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے پاس کیس سے متعلق ایسی معلومات یا راز ہیں جو ابھی سامنے نہیں آئے تو انہیں میر رضا کے اہلخانہ سے ملاقات کرنی چاہیے اور ان کے سوالات کے جواب دینے چاہئیں۔
کمیشن کی تجویز پر احمد بھاردے کی جانب سے میر رضا کے اہلخانہ سے ملاقات پر آمادگی ظاہر کی گئی۔ ان کے وکیل کے مطابق کمیشن نے دونوں فریقوں کو براہِ راست بیٹھ کر سوالات اور معلومات کا تبادلہ کرنے کی تجویز دی ہے۔
میر رضا کے والد کے وکیل جبران ناصر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ 33 میں سے 23 گواہوں کے بیانات تفتیشی افسر کے بجائے دیگر پولیس افسران نے ریکارڈ کیے۔ ان کے مطابق کمیشن کے سامنے تفتیشی افسر نے اس امر کو تسلیم بھی کیا۔
جبران ناصر نے مزید الزام عائد کیا کہ نئی تحقیقاتی ٹیم کا مقصد پولیس افسران کو بچانا ہے، تاہم اس حوالے سے یہ مؤقف وکیل کی جانب سے پیش کیا گیا ہے۔
میر رضا علی کی موت کی تحقیقات کے لیے سندھ ہائیکورٹ نے جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا تھا، جو کیس کی تفتیش، شواہد اور پولیس کارروائی میں سامنے آنے والی خامیوں کا جائزہ لے رہا ہے۔



