خیرالنساء مغل کی صدارت میں اجلاس، فہمیدہ لغاری واقعہ پر انکوائری کمیٹی کی تشکیل،ملوث افراد کو سخت سزا دینے کا عزم

میرپور خاص (رپورٹ شاھدمیمن) ممبر صوبائی اسمبلی و پارلیمانی سیکرٹری برائے بین الصوبائی رابطہ کمیٹی خیرالنساء مغل نے ڈاکٹر فہمیدہ لغاری کے واقع پر شدید دکھ و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ایس ایس پی آفس میرپورخاص میں ایک اعلی سطحی اجلاس کی صدارت کی جس میں ایس ایس پی میرپورخاص سید فدا حسین شاہ، آئی جی سندھ پولیس کی جانب سے قائم کردہ انکوائری کمیٹی کی سربراہ ایس ایس پی ٹیکنیکل اینڈ فرانزک سی ٹی ڈی سہائی عزیز ٹالپر ، ممبران میں ایس ایس سجاول علینہ راجپر ، انسپیکٹر فیاض حسین ، آئی او کامران ہالیپوٹو، چانسلر ابن سینا یونیورسٹی و محمد میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر سید رضی محمد، ڈاکٹر فرزانہ، وائس چانسلر میرپور خاص یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد رفیق میمن، رجسٹرار پیر سھیل جان سرہندی، سول سوسائٹی کے محمد بخش کپری نے شرکت کی. ممبر صوبائی اسمبلی خیر النساء مغل نے کہا کہ میں یہاں پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت کی ہدایت پر آئی ہوں تاکہ ورثاء کو مکمل انصاف اور شفاف انکوائری ہو سکے کیونکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ خواتین کے حقوق کی بات کی ہے یہی وجہ ہے کہ پارلیمنٹ میں خواتین کے حقوق کے لیے دو بڑے فورم بنے ہوئے ہیں جس میں وومین پارلمینٹرین کوکس اور وومین کمیشن شامل ہے. ایم پی اے نے کہا کہ فہمیدہ لغاری جو کہ مستقبل کی ایک اچھی ڈاکٹر بننے جا رہی تھی اس طرح اپنی زندگی کا دیا بجھا دیا جو کہ انتہائی افسوس اور دل دہلانے والا واقعہ ہے مگر سندھ حکومت اور مقامی انتظامیہ اس واقعہ کی مکمل تحقیقات کرنے کے لیے مکمل طور پر سنجیدہ ہے اس لیے حکومت سندھ کی جانب سے ایک اچھے اور ایماندار افسران پر مشتمل انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے تاکہ اس واقعے کے محرقات کی شفاف طریقے اور غیر جانبدارانہ طور پر تحقیقات مکمل کی جا سکے اور ملوث ملزمان کو کڑی سے کڑی سزا دی جا سکے. اجلاس میں ممبر صوبائی اسمبلی خیر النساء مغل، پولیس، اور متعلقہ اداروں اور ورثاء کی جانب سے انکوائری کمیٹی پر مکمل طور پر اعتماد کا اظہار کیا گیا اور شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرنے کی امید ظاہر کی. ممبر صوبائی اسمبلی خیر النساء مغل نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اعلی تعلیمی تعلیمی اداروں میں طلبہ و طالبات کی کونسلنگ نہیں کی جا رہی جبکہ تعلیمی اداروں میں وفاق کی جانب سے اینٹی ہراسمنٹ کا قانون بنا ہوا ہے اس کے تحت تعلیمی اداروں میں اینٹی ہراسمنٹ سیل کو فعال بنانے کی ضرورت ہے اور کام کرنے والی جگہوں پر خواتین کو ہراسمنٹ کرنے کے 2010 ایکٹ پر مکمل طور عملدرآمد کروایا جائے.ایم پی اے خیر النساء مغل نے ڈاکٹر فہمیدہ لغاری کے ورثاء سے حکومت سندھ کی جانب سے تشکیل کردہ انکوائری کمیٹی ممبران پر اعتماد کے لیے رضامندی معلوم کی جس پر فہمیدہ لغاری کے ورثاء نے مکمل اعتماد کا اظہار کیا اس موقع پر سول سوسائٹی کے محمد بخش کپری نے تمام اعلی تعلیمی اداروں جس میں میرپور خاص یونیورسٹی، بھٹائی ڈینٹل کالج،. آئی بی اے کئمپس میرپورخاص کے سربراہان کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے تعلیمی اداروں میں طلبہ و طالبات کی کونسلنگ کی جائے اور اینٹی ہراسمنٹ کمیٹیز کو فعال بنایا جائے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات کی روکتھام ممکن ہو سکے.
آخر میں اجلاس کا اختتام ڈاکٹر فہمیدہ لغاری کے لیے بلندی درجات کے لیے فاتحہ خوانی سے کیا گیا.



