بھارت کی عسکری نقل و حرکت اور پاکستان کا منہ توڑ جواب

اسلام آباد: خصوصی رپورٹ (​جانو ڈاٹ پی کے)خطے میں کشیدگی کی نئی لہر دیکھی جا رہی ہے جہاں بھارت نے اپنی دفاعی پوزیشنیں مضبوط کرنا شروع کر دی ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، بھارت نے پونہ سے میڈیم رینج سرفیس ٹو ایئر میزائل (MRSAM) سسٹم کو ساحلی علاقوں، بالخصوص سر کریک اور پاکستانی سرحد سے متصل مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔ 70 کلومیٹر رینج والا یہ اسرائیلی ساختہ ایئر ڈیفنس سسٹم کروز میزائلوں، ڈرونز اور جنگی طیاروں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بھارت کی یہ نقل و حرکت اس بات کا اعتراف ہے کہ وہ پاکستان کے ممکنہ جوابی حملے سے خوفزدہ ہے اور اپنے اقتصادی مراکز اور بحری بیڑوں (INS وکرانت اور وکرم آدتیہ) کو تحفظ فراہم کرنا چاہتا ہے۔

​بھارت کی اس مہم جوئی کے جواب میں پاکستان نے بھی اپنی جنگی تیاریوں کو حتمی شکل دے دی ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ٹلہ فائرنگ رینج کا دورہ کیا اور پاک فوج کی آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا۔ اس دورے کے دوران جدید ہتھیاروں کے استعمال اور ‘انٹیگریٹڈ وارفیئر’ (مربوط جنگی حکمت عملی) کا مظاہرہ کیا گیا، جس کا مقصد دشمن کو یہ بتانا ہے کہ پاکستان کی تینوں افواج (بری، بحری اور فضائیہ) ایک منظم یونٹ کے طور پر کسی بھی جارحیت کا فوری اور مہلک جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

​پاکستان نے حالیہ دنوں میں اپنی بحری اور میزائل طاقت میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جس میں ہنگور کلاس آبدوزیں، جنا فریگیٹس، بابر کروز میزائل، سمیش تھری اور تیمور میزائل کے کامیاب تجربات شامل ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ‘پری وار سنیریو’ (جنگ سے پہلے کی صورتحال) ہے، جہاں دونوں ممالک اسٹریٹجک سگنلنگ کر رہے ہیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا پیغام واضح ہے: "پاکستان جنگ نہیں چاہتا، لیکن اگر مسلط کی گئی تو دشمن کو ناقابلِ تلافی نقصان اٹھانا پڑے گا۔”

​معظم فخر کا یہ خصوصی تجزیہ دیکھنے کے لیے لنک پر کلک کریں:

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button