محسن نقوی اور وزیراعظم آمنے سامنے، اشرافیہ کو بچانے کے لیے گرینڈ آپریشن روک دیا گیا

​اسلام آباد: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے)​وفاقی دارالحکومت میں طاقتور اشرافیہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے حکومت کے دو اہم ستونوں کے درمیان شدید ٹکراؤ کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے جس نے سیاسی حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی کی ہدایت پر سی ڈی اے نے کانسٹی ٹیوشن ون اپارٹمنٹس کے خلاف گرینڈ آپریشن کا آغاز کیا تو وزیراعظم شہباز شریف نے مداخلت کرتے ہوئے اس کارروائی کو فوری طور پر ایک ہفتے کے لیے روک دیا ہے۔ اس متنازع عمارت کو، جو دراصل ایک ہوٹل کے لیے الاٹ شدہ زمین پر بنائی گئی تھی، اسلام آباد ہائی کورٹ نے غیر قانونی قرار دے رکھا تھا مگر آپریشن شروع ہوتے ہی بااثر افراد کو بچانے کے لیے سیاسی مشینری متحرک ہو گئی۔ وزیراعظم نے اس حساس معاملے پر ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے جس کے بعد یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا حکومت اپنے ہی وزیر داخلہ کے فیصلے کے خلاف کھڑی ہو گئی ہے۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کچے کے علاقے کے لیے 23 ارب روپے کے بھاری ترقیاتی پیکج کا اعلان کر کے ایک بڑی سیاسی کامیابی سمیٹی ہے، جس کے تحت ڈاکوؤں کے گڑھ سمجھے جانے والے علاقوں میں سکول، ہسپتال اور سڑکیں تعمیر کی جائیں گی اور مقامی لوگوں کو 14 ہزار ایکڑ سے زائد زمین الاٹ کی جائے گی۔ اس اقدام سے کچے میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے جبکہ کئی ڈاکوؤں نے ہتھیار ڈال کر پرامن زندگی گزارنے کا وعدہ کیا ہے۔ صدر مملکت آصف علی زرداری کے دورہ چین کو بھی انتہائی کامیاب قرار دیا جا رہا ہے جس سے دفاعی اور اقتصادی شعبوں میں نئی راہیں کھلیں گی۔

​مزید تفصیلات کے لیے امداد سومرو کاوی لاگ مکمل دیکھنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں:

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button