ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے پر صدر پزشکیان کا بیان سنسر کرنے کا الزام

دوحہ(جانوڈاٹ پی کے)ایران کے ایوان صدر نے سرکاری نشریاتی ادارے پر سنسرشپ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر مسعود پزشکیان کے انٹرویو کے بعض حصوں کو سنسر کردیا گیا۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایران کے ایک سینئر عہدیدار نے ریاستی میڈیا کی جانب سے صدر مسعود پزشکیان کے انٹرویو کے بعض حصوں کو سنسر کرنے کے حکومتی الزام کے بعد سرکاری نشریاتی ادارے اسلامی جمہوریہ ایران براڈکاسٹنگ  (ئی آر آئی بی) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مختلف سیاسی نکتہ نظر کی زیادہ وسیع نمائندگی کرے۔

 سرکاری نشریاتی ادارے کی نگرانی کرنے والی سپروائزری کونسل کے ترجمان محمد میرزائی نے کہا کہ سرکاری نشریاتی ادارہ قومی اتحاد کی علامتوں میں سے ایک ہونا چاہیے اور اسے منظور شدہ سیاسی جماعتوں اور گروپس کی اعتدال پسند شخصیات کو بھی مناسب نمائندگی دینی چاہیے۔

محمد میرزائی نے آئی آر آئی بی کی انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ مؤثر انتظامی اقدامات کرے اور ضروری ہدایات جاری کرے تاکہ مستقبل میں نشریات سے متعلق ایسے تنازعات سے بچا جا سکے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ نگران بورڈ کا یہ بیان صدر مسعود پزشکیان کے دفتر کی جانب سے اس شکایت کے بعد سامنے آیا ہے کہ سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر کیے گئے ایک انٹرویو میں صدر کے بعض بیانات کو حذف کر دیا گیا تھا۔

مزید خبریں

Back to top button