"مفت بائیک یااقساط؟”مریم نواز کےاعلان پر’’ٹرولنگ‘‘عروج پر
15ہزار ایڈوانس،2ہزار ماہانہ قسط!مریم نوازکے اعلان پرسوشل میڈیاپربحث چھڑگئی

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے نوجوانوں کے لیے ایک لاکھ الیکٹرک بائیکس فراہم کرنے کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر اس حوالے سے بحث چھڑ گئی، جہاں متعدد صارفین نے مختلف انداز میں ردعمل دیتے ہوئے حکومت کو تنقید اور طنز کا نشانہ بنایا۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی مختلف پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایک لاکھ الیکٹرک بائیکس مفت دی جائیں گی، جبکہ صرف 15 ہزار روپے ایڈوانس اور2ہزار روپے ماہانہ قسط ادا کرنا ہوگی۔ اس دعوے پر صارفین کی بڑی تعداد نے سوال اٹھایا کہ اگر بائیکس مفت ہیں تو پھر ایڈوانس اور ماہانہ اقساط کی ادائیگی کیوں کی جائے گی۔
سابق وزیرداخلہ شہزاد اکبر نے بھی مریم نوازشریف پر طنز کے تیر چلائے ہیں۔
All students in marketing should take a lesson here….
Sell your product…. Say it’s absolutely free…. Get claps and then add…..just a small down payment and monthly installment ‼️
پتا نہیں کون کہتا ہے کہ مریم نے پڑھائی نہیں کی…. pic.twitter.com/guu3f1GiAz— Mirza Shahzad Akbar (@ShazadAkbar) July 16, 2026
کئی صارفین نے طنزیہ تبصرے کرتے ہوئے لکھا کہ "مفت” اور "اقساط” ایک ساتھ کیسے ہو سکتی ہیں، جبکہ بعض نے اس اعلان کو انتخابی وعدوں سے جوڑتے ہوئے حکومت پر تنقید کی۔ دوسری جانب کچھ صارفین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ منصوبے کی مکمل شرائط، اہلیت، بائیک کی قیمت، سبسڈی کی تفصیلات اور ادائیگی کے طریقہ کار کو واضح کیا جائے تاکہ عوام میں پائی جانے والی غلط فہمیاں دور ہو سکیں۔
جب ہاتھ جوڑ کر ووٹ مانگنے پر آجائے تو سمجھو اس دور کے سلطان سے کوئی بھول ہوئی ہے،
اور اگر ہاتھ کھڑے کردے کہ مجھے آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کا شوق نہیں تو سمجھو یہ ہارے ہوئے لشکر سے ہے@BBhuttoZardari #پنجاب_سے_کشمیر_تک_تیر pic.twitter.com/A378Zu0Uit— Arshad Niaz Janbaz (@JanbazSMBB) July 16, 2026
واضح رہے کہ حکومت پنجاب نوجوانوں کو ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے لیے الیکٹرک بائیکس کی فراہمی کا منصوبہ متعارف کرانے کا اعلان کر چکی ہے، تاہم منصوبے کی حتمی شرائط اور مالیاتی تفصیلات سے متعلق سرکاری اعلامیے کو ہی مستند تصور کیا جائے گا۔
سوشل میڈیا پر جاری بحث کے دوران صارفین کی جانب سے حکومت سے شفاف معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے تاکہ عوام کو منصوبے کی اصل نوعیت اور شرائط سے آگاہ کیا جا سکے۔



