بھارتی پولیس کا شاہی مسجد کو بچانے والے مسلمانوں پر بدترین لاٹھی چارج اور شیلنگ

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک)بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر اجین میں 600 سالہ تاریخی شاہی مسجد کے ایک حصے کو سڑک کی توسیع کے منصوبے میں شامل کیے جانے پر کشیدگی پیدا ہوگئی، پولیس اور مقامی مسلمانوں کے درمیان جھڑپوں کے دوران لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ کی اطلاعات ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق 2028 میں ہونے والے ہندوؤں کے مذہبی میلے سمہاستھا کمبھ سے قبل سڑک چوڑی کرنے کے منصوبے کے تحت تاریخی مسجد کے کچھ حصے کو مسمار کرنے کے لیے نشان زد کیا گیا تھا۔ اس اقدام کے خلاف ہزاروں مسلمان مسجد کے اندر بیٹھ گئے اور کئی روز تک مسجد کے تحفظ کے لیے دھرنا جاری رکھا۔
رپورٹس کے مطابق پیر کی صبح انتظامیہ بلڈوزر کے ہمراہ مسجد پہنچی تو مقامی افراد اور پولیس کے درمیان شدید کشیدگی پیدا ہوگئی۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی، جس کے دوران آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا گیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق مسجد کی نمائندہ کمیٹی اور انتظامیہ کے درمیان اتوار کی رات اتفاق ہوا تھا کہ سڑک کی توسیع کے لیے مسجد کا تقریباً تین فٹ حصہ ہٹایا جائے گا، جہاں نماز ادا نہیں کی جاتی۔ تاہم پیر کو فجر کی نماز کے بعد لوگوں کے گھروں کو جانے کے بعد حکام صبح تقریباً 8 بجے دوبارہ مسجد پہنچ گئے، جس پر مقامی افراد نے معاہدے کی پاسداری نہ ہونے کے خدشے کا اظہار کیا۔
رپورٹس کے مطابق مسجد کے مینار کے معاملے پر بھی فریقین کے درمیان اختلاف برقرار ہے۔ مقامی افراد نے مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ مینار ہٹانے سے قبل اس کے پیچھے نیا مینار تعمیر کرنے کے لیے وقت دیا جائے، تاہم انتظامیہ نے یہ تجویز قبول نہیں کی۔
دوسری جانب اجین کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس پردیپ شرما نے میڈیا کو بتایا کہ مسلم کمیونٹی اور مسجد کمیٹی 2028 کے سمہاستھا کمبھ میلے کے پیش نظر باہمی اتفاق اور تعاون سے سڑک کی توسیع کے زون میں آنے والے مسجد کے حصے کو خود ہٹا رہی ہے۔



