بلوچستان کا بحران سیاسی بنیادوں پر حل کیا جائے، وزیراعظم قومی کانفرنس بلائیں، لیاقت بلوچ

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں عوامی مینڈیٹ کا مصنوعی وجود صوبے کے بحرانوں کو مزید گھمبیر بنا چکا ہے، حکومت کو چاہیے کہ مسائل کے حل کے لیے سیاسی راستہ اختیار کرے اور وزیراعظم بلوچستان کے معاملے پر قومی کانفرنس بلائیں۔
تفصیلات کے مطابق لاہور میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے زیرِ تعلیم طلبہ و طالبات کے وفد نے لیاقت بلوچ سے ملاقات کی، جس میں طلبہ کو درپیش تعلیمی مسائل اور بلوچستان کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر لیاقت بلوچ نے کہا کہ بلوچستان طویل عرصے سے شورشوں کی زد میں ہے۔ ان کے مطابق شورش برپا کرنے والے عناصر کے بیانیے کو علاقائی سطح پر بڑھتی ہوئی تائید مل رہی ہے، جبکہ شورش کے خاتمے کے لیے اختیار کیے جانے والے مؤقف کو تنہائی کا سامنا ہے۔
نائب امیر جماعت اسلامی نے زور دیا کہ بلوچستان کے مسائل کو محض انتظامی اقدامات کے بجائے سیاسی بنیادوں پر حل کیا جائے۔ انہوں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ تمام متعلقہ سیاسی قوتوں کو اعتماد میں لے کر بلوچستان کے معاملے پر قومی کانفرنس بلائی جائے تاکہ مسائل کے حل کے لیے متفقہ لائحہ عمل تشکیل دیا جا سکے۔
لیاقت بلوچ نے بلوچستان کے طلبہ و طالبات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ نوجوان قوم کے لیے بہت عزیز ہیں اور ان کی عزت، احترام اور قدر کرنا قومی تقاضا ہے۔
انہوں نے اس بات کی ضرورت اجاگر کی کہ بلوچستان کے نوجوانوں کے تعلیمی مسائل کو سنجیدگی سے حل کیا جائے اور انہیں قومی دھارے میں مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے سازگار مواقع فراہم کیے جائیں۔



