احسن بھون کی ایل ایل بی ڈگری جعلی قرار دینے کا معاملہ، کیپٹن (ر) محمد صفدر کو قانونی نوٹس

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) سپریم کورٹ کے ایڈووکیٹ محمد احسن بھون نے اپنی ایل ایل بی ڈگری کو جعلی قرار دینے کے مبینہ بیان پر کیپٹن (ر) محمد صفدر کو قانونی نوٹس جاری کر دیا۔
محمد احسن بھون کی جانب سے کلام لا فرم کے ذریعے 29 ستمبر 2026 کو جاری کیے گئے قانونی نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ان کی تعلیمی قابلیت، وکالت کے لیے انرولمنٹ اور پیشہ ورانہ حیثیت سے متعلق الزامات بے بنیاد، حقائق کے منافی اور ہتک آمیز ہیں۔
نوٹس کے مطابق محمد احسن بھون نے پنجاب یونیورسٹی سے مارچ 1989 میں رول نمبر 828 کے تحت ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔ پنجاب بار کونسل کے ریکارڈ کے مطابق وہ 19 ستمبر 1989 کو لوئر کورٹس، 22 فروری 1992 کو ہائیکورٹ جبکہ 19 جولائی 2003 کو سپریم کورٹ کے ایڈووکیٹ کے طور پر انرول ہوئے۔
قانونی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ محمد احسن بھون نے تین دہائیوں سے زائد عرصے تک فوجداری، آئینی، سول، کارپوریٹ، کمرشل اور بینکنگ سمیت مختلف شعبوں میں وکالت کی۔ وہ پنجاب بار کونسل کے وائس چیئرمین، پاکستان بار کونسل کے رکن، لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر سمیت مختلف اہم قانونی عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔
نوٹس کے مطابق محمد احسن بھون 9 فروری 2008 سے 31 جولائی 2009 تک لاہور ہائیکورٹ کے جج بھی رہے جبکہ 2021-22 میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منتخب ہوئے۔ انہیں دی ہیگ کی مستقل عدالتِ ثالثی میں پاکستان کے نیشنل گروپ کا رکن بھی نامزد کیا گیا جبکہ 2025-27 کی مدت کے لیے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا رکن بنایا گیا۔
مزید کہا گیا ہے کہ محمد احسن بھون 2026-2030 کی مدت کے لیے پانچویں مرتبہ پاکستان بار کونسل کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق 21 جنوری 2026 کو پنجاب یونیورسٹی کے کنٹرولر امتحانات نے انتخابی عمل کے سلسلے میں ان کی تعلیمی اسناد کی تصدیق کرتے ہوئے انہیں Verified قرار دیا تھا۔
قانونی نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ 23 ستمبر 2026 کو سپریم کورٹ کے باہر عوامی گفتگو کے دوران محمد احسن بھون کی ایل ایل بی ڈگری کی صداقت پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے جعلی قرار دینے سے متعلق بیان دیا گیا، جسے بعدازاں سوشل میڈیا پر بھی نشر کیا گیا۔
نوٹس کے مطابق مذکورہ الزام کے ساتھ کوئی مستند دستاویزی ثبوت یا سرکاری ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا۔ کیپٹن (ر) محمد صفدر سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ڈگری کو جعلی قرار دینے کے لیے موجود اصل یونیورسٹی ریکارڈ، متعلقہ ادارے کا فیصلہ، ہائر ایجوکیشن کمیشن، بار کونسل یا کسی مجاز عدالت کا حکم پیش کریں۔
قانونی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ اگر ایسا کوئی مستند ریکارڈ موجود نہیں تو مبینہ بیان واپس لیا جائے اور معاملے کا ازالہ کیا جائے۔ نوٹس میں خبردار کیا گیا ہے کہ مطالبات پر عمل نہ ہونے کی صورت میں محمد احسن بھون قانونی چارہ جوئی سمیت دستیاب قانونی اقدامات اختیار کر سکتے ہیں۔



