خاتون قتل کیس میں صلح کے وقت دو شوہر سامنے آگئے، ہائیکورٹ نے قانونی ورثاء کے تعین کا حکم دے دیا

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) خاتون کے قتل کے مقدمے میں صلح کے مرحلے پر دو افراد نے مقتولہ کے شوہر ہونے کا دعویٰ کردیا، جس پر لاہور ہائیکورٹ نے قانونی ورثاء کے تعین کے لیے مکمل انکوائری کا حکم دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے مقتولہ سمیرا بی بی کے قتل کے مقدمے میں ملزم مقصود احمد کی درخواست پر 9 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا۔ عدالت نے سیشن جج بہاولنگر کو شاہد اور ممتاز احمد کے متضاد دعوؤں کی مکمل انکوائری، متعلقہ دستاویزات اور شہادتیں ریکارڈ کرنے اور 3 ہفتوں میں رپورٹ ہائیکورٹ میں پیش کرنے کا حکم دیا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق سمیرا بی بی کو 5 جون 2018 کو چک قاسمکا میں کلہاڑی کے وار کرکے قتل کیا گیا تھا۔ مقتولہ کے والد اللہ دتہ کی درخواست پر تھانہ تخت محل بہاولنگر میں مقدمہ درج کیا گیا، جبکہ ٹرائل کورٹ نے 15 مئی 2019 کو مقصود احمد کو دفعہ 302(ب) تعزیرات پاکستان کے تحت عمر قید اور 2 لاکھ روپے معاوضے کی سزا سنائی تھی۔ مقدمے میں شریک ملزم نیاز احمد کو بری کردیا گیا تھا۔
مقصود احمد نے سزا کے خلاف ہائیکورٹ سے رجوع کیا اور دورانِ اپیل مقتولہ کے والدین سے صلح کی بنیاد پر دفعہ 345 ضابطہ فوجداری کے تحت بریت کی درخواست دائر کی۔ تاہم صلح کے مرحلے پر مقتولہ کے حقیقی قانونی وارث کے معاملے پر تنازع سامنے آگیا۔
فیصلے کے مطابق مقتولہ کے والدین نے شاہد کو سمیرا بی بی کا شوہر قرار دیا، جبکہ ممتاز احمد نے دعویٰ کیا کہ شاہد سے سمیرا کی شادی فیملی کورٹ کے ذریعے ختم ہوچکی تھی اور اس نے 17 اگست 2017 کو سمیرا سے شادی کی، اس لیے وہ مقتولہ کا قانونی شوہر اور وارث ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ قتل کے مقدمے میں صلح اور حقِ قصاص سے دستبرداری کے لیے حقیقی قانونی ورثاء کی رضامندی بنیادی شرط ہے۔ اگر قانونی وارث ہونے سے متعلق تنازع موجود ہو تو عدالت کے لیے ضروری ہے کہ پہلے انکوائری کرکے حقیقی ورثاء کا تعین کیا جائے۔
عدالت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ قانونی ورثاء کا تعین اسی عدالت کو کرنا چاہیے جس کے سامنے صلح کی درخواست زیرِ سماعت ہو۔ ہائیکورٹ کے مطابق سیشن عدالت نے دونوں دعویداروں کے مؤقف اور شواہد کا مناسب جائزہ نہیں لیا اور انہیں ایک دوسرے کے شواہد پر جرح کا مکمل موقع بھی فراہم نہیں کیا۔
فیصلے میں مزید قرار دیا گیا کہ اگر شواہد سے قتل غیرت کے نام پر یا غیرت کے بہانے ثابت ہوا تو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 311 کے تحت صرف ورثاء کی صلح کی بنیاد پر ملزم کی بریت لازم نہیں ہوگی، بلکہ عدالت تعزیری سزا بھی دے سکتی ہے۔
ہائیکورٹ نے قانونی ورثاء کے تعین تک صلح کی درخواست پر حتمی فیصلہ مؤخر کرتے ہوئے معاملہ سیشن جج بہاولنگر کو واپس بھجوا دیا اور 3 ہفتوں میں انکوائری رپورٹ طلب کرلی۔



