صرف پولیس کے دعوے پر جائیداد کو مالِ مقدمہ قرار نہیں دیا جا سکتا، لاہور ہائیکورٹ

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) لاہور ہائیکورٹ نے ایک اہم قانونی فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ صرف پولیس کے دعوے کی بنیاد پر کسی جائیداد یا مویشیوں کو مالِ مقدمہ قرار نہیں دیا جا سکتا، بلکہ اس کے لیے ٹھوس، قابلِ قبول اور قابلِ اعتماد شواہد کا ہونا ضروری ہے۔
جسٹس طارق محمود باجوہ نے درخواست گزار نثار احمد کی درخواست پر آٹھ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا سپرداری مسترد کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور درخواست گزار کی ایک گائے، تین بھینسوں، ایک بیل اور تین لاکھ روپے کی سپرداری منظور کر لی۔
عدالتی فیصلے کے مطابق درخواست گزار کے خلاف ایک ہزار 24 بوری گندم میں مبینہ خردبرد کا مقدمہ درج تھا۔ پولیس کا مؤقف تھا کہ درخواست گزار نے خردبرد کی گئی گندم فروخت کرکے مویشی خریدے، اس لیے یہ مالِ مقدمہ ہیں، جبکہ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ تفتیشی افسر نے غیر قانونی طور پر اس کے مویشی اور نقد رقم قبضے میں لی۔
عدالت نے واضح کیا کہ دورانِ تفتیش تحقیقاتی افسر محض اپنی رائے یا پولیس کے دعوے کی بنیاد پر کسی جائیداد کو مالِ مقدمہ قرار نہیں دے سکتا۔ کسی بھی اثاثے کو جرم سے حاصل ہونے والی آمدن ثابت کرنے کے لیے مضبوط اور قابلِ اعتماد شواہد پیش کرنا ضروری ہے، جبکہ سپرداری سے متعلق فیصلہ کرنا صرف عدالت کا اختیار ہے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ شریک ملزم کا پولیس کے سامنے دیا گیا اعترافی بیان قانوناً قابلِ قبول شہادت نہیں۔ ریکارڈ پر ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ مبینہ خردبرد کی گئی گندم فروخت ہوئی یا اس سے حاصل ہونے والی رقم سے یہ مویشی خریدے گئے۔
لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ موجودہ شواہد کی روشنی میں مویشیوں اور نقد رقم کو جرم کی آمدن قرار نہیں دیا جا سکتا، لہٰذا درخواست گزار کو 30 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کے بعد ایک گائے، تین بھینسیں، ایک بیل اور تین لاکھ روپے واپس کرنے کا حکم دیا گیا۔



