ٹھٹھہ میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کا PPHI میں انضمام کے خلاف احتجاج

ٹھٹھہ (جاوید لطیف میمن)محکمہ صحت ٹھٹھہ کی لیڈی ہیلتھ ورکرز نے PPHI میں ضم کرنے کی تجویز کے خلاف پریس کلب ٹھٹھہ کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا
محکمہ صحت ٹھٹھہ کی لیڈی ہیلتھ ورکرز (LHW) نے انہیں PPHI میں ضم کرنے کی تجویز کے خلاف پریس کلب ٹھٹہ کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا۔
صاحب خاتون عرف صاحبہ پالاری، فیروزہ، زینت ملاح، گلشن عمرانی، روسن مورجھریو، یاسمین، زبیدہ، حنیفہ چنہ، سعیدہ خواجہ، زلیخاں پاٹاری اور دیگر لیڈی ہیلتھ ورکرز کی قیادت میں ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈ اٹھا کر سخت احتجاج کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں محکمہ صحت ٹھٹھہ میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کے طور پر بھرتی کیا گیا تھا اور 12 سال قبل انہیں ریگولر (پکا) بھی کر دیا گیا تھا۔ لیکن اب انہیں زبردستی PPHI میں ضم کرنے کی کوشیں کی جا رہی ہیں، جو فیصلہ ہمیں کسی صورت قبول نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز 1994 سے گھر گھر جا کر پولیو ویکسین، ماں اور بچے کی صحت سمیت بنیادی صحت کی خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔ یہ پروگرام شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کا عوامی فلاحی منصوبہ تھا۔ اسے ختم کرنے کے لیے PPHI میں ضم کرنے کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہم پہلے ہی محکمہ صحت میں ریگولر ہو چکے ہیں تو پھر ہمیں PPHI جیسے این جی اوز میں ضم کرنے کا مقصد کیا ہے؟ ہمیں خدشہ ہے کہ کہیں ہمیں این جی اوز میں ضم کر کے بے روزگار نہ کر دیا جائے۔
انہوں نے پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے مطالبہ کیا کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز کو PPHI میں ضم کرنے کا فیصلہ فوری واپس لے کر ان کے حق اور روزگار کا تحفظ کیا جائے اور انہیں محکمہ صحت میں لیڈی ہیلتھ ورکر کے طور پر کام کرنے کا موقع فراہم کیا جائے تاکہ وہ اپنی ذمہ داریاں بہتر طریقے سے ادا کر سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم کسی بھی صورت میں کسی بھی این جی او میں ضم نہیں ہوں گی۔ اگر ایسا کوئی فیصلہ کیا گیا یا ہم پر دباؤ ڈالا گیا تو ہم پورے سندھ میں سخت احتجاج کریں گی اور بلاول ہاؤس کے سامنے اپنے جائز مطالبات کی منظوری کے لیے دھرنا دینے کے ساتھ ساتھ انصاف کے لیے عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹائیں گی۔



