ٹھٹھہ:کوہستانی پٹی میں ضلعی حدود کا تنازع،مقامی افراد سراپا احتجاج، حکومت سے فوری حل کا مطالبہ

ٹھٹھہ( جاوید لطیف میمن ) کوہستانی پٹی میں ضلعی حدود کا تنازع، مقامی افراد سراپا احتجاج، حکومت سے فوری حل کا مطالبہ
ضلع ٹھٹھہ اور ضلع جامشورو کی کوہستانی پٹی میں ضلعی حدود واضح نہ ہونے کے باعث مقامی آبادی شدید مشکلات کا شکار ہے۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ انہیں یہ تک معلوم نہیں کہ ان کے گاؤں اور اراضی کس ضلع میں واقع ہیں، جس کے باعث وہ بنیادی سہولیات، ترقیاتی منصوبوں اور اپنی زمینوں کے تحفظ سے محروم ہیں۔
کوہستان کے سماجی رہنماؤں ڈاکٹر لکھمیر پالاری، شاہ محمد چانگ، محمد انور جاکھرو، محمد بخش مری اور دیگر نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی حد بندی کے غیر واضح ہونے سے نہ صرف مقامی افراد پریشان ہیں بلکہ انہیں یہ خدشہ بھی لاحق ہے کہ کہیں ان کی زمینیں دوسرے ضلع میں شامل کر کے قبضہ مافیا کے حوالے نہ کر دی جائیں۔
انہوں نے بتایا کہ سال 2022 میں وزیراعلیٰ سندھ نے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے سندھ سیکریٹریٹ سے ایک سروے ٹیم بھی بھیجی تھی، جس نے پورا دن سروے کیا، تاہم ان کے بقول لینڈ مافیا کے اثر و رسوخ اور مبینہ رشوت کے باعث اس سروے کے نتائج سامنے نہ آ سکے، جس سے مقامی لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔
رہنماؤں نے کہا کہ کوہستانی پٹی میں متعدد ونڈ پاور کمپنیاں قائم ہونے کے باوجود مقامی نوجوان روزگار سے محروم ہیں، جبکہ علاقے کے مکین آج بھی بنیادی انسانی سہولیات سے محروم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ ملک میں توانائی پیدا کرنے والے بڑے صوبوں میں شامل ہے، لیکن جھمپیر، جنگشاہی اور گھارو جیسے علاقوں کے عوام اب بھی "توانائی کی غربت” کا سامنا کر رہے ہیں، اس لیے توانائی کے شعبے میں انصاف کے بغیر منصفانہ ترقی ممکن نہیں۔
انہوں نے سندھ حکومت، ضلعی انتظامیہ اور منتخب نمائندوں سے مطالبہ کیا کہ ٹھٹھہ اور جامشورو کی ضلعی حدود کے تنازع کو فوری طور پر حل کیا جائے، مقامی آبادی کی زمینوں اور قدیمی دیہات کا تحفظ یقینی بنایا جائے، لینڈ مافیا کے خلاف کارروائی کی جائے، روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں اور کوہستان کے عوام کو بنیادی سہولیات مہیا کر کے ان کے تحفظات دور کیے جائیں۔



