کوہاٹ میں سونے کی غیر قانونی مائننگ پر خونریز تنازع!پی ٹی آئی کے بااثر گروپ آمنے سامنے،پولیس کابڑاکریک ڈاؤن

کوہاٹ(جانو ڈاٹ پی کے) کوہاٹ میں مبینہ غیر قانونی پلاسر گولڈ مائننگ کے معاملے پر دو بااثر گروپوں کے درمیان فائرنگ کے بعد پولیس نے درابو کچ کے علاقے میں بڑا کریک ڈاؤن آپریشن کرتے ہوئے متعدد افراد کو گرفتار کرلیا، جبکہ غیر قانونی مائننگ کے ٹھکانے بھی مسمار اور بھاری مشینری ہٹا دی گئی۔
ذرائع کے مطابق غیر قانونی گولڈ مائننگ کے معاملے پر صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم کے بھتیجوں مجاہد آفریدی اور صادق آفریدی کے گروپ اور سابق ایم پی اے امجد آفریدی کے گروپ کے درمیان تنازع شدت اختیار کرگیا اور فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، جس میں متعدد افراد کے زخمی اور جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔
واقعے کے بعد پولیس نے دو مقدمات درج کیے، جن میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 بھی شامل کی گئی ہے، جبکہ سابق ایم پی اے امجد آفریدی کو بھی مقدمات میں نامزد کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق درابو کچ، قمر اور تھانہ گمبت کی حدود میں مبینہ غیر قانونی گولڈ مائننگ کے حوالے سے مختلف بااثر افراد کے مفادات کا تنازع پہلے سے جاری تھا، جس نے حالیہ دنوں میں سنگین صورت اختیار کرلی۔
⚡ 14 ستمبر کو پولیس کا بڑا ایکشن
ذرائع کے مطابق 14 ستمبر کو ڈی پی او کوہاٹ کی ہدایت پر درابو کچ میں غیر قانونی مائننگ میں ملوث عناصر کے خلاف پولیس آپریشن کیا گیا۔
کارروائی کے دوران متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا، غیر قانونی مائننگ کے ٹھکانے تباہ کیے گئے جبکہ موقع پر موجود ایکسیویٹرز اور بھاری مشینری بھی ہٹا دی گئی۔
پولیس کی جانب سے غیر قانونی مائننگ میں ملوث عناصر کے خلاف مزید کارروائیاں جاری رہنے کا امکان ہے۔
🔥 سونے کی کانوں پر مفادات کی جنگ؟
کوہاٹ میں غیر قانونی پلاسر گولڈ مائننگ کا معاملہ پہلے ہی واضح ضابطہ کار یا مستقل قانونی فریم ورک نہ ہونے کے باعث پیچیدہ صورتحال اختیار کرچکا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ غیر قانونی مائننگ سے جڑے بااثر عناصر کے درمیان مفادات کی لڑائی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق کوہاٹ میں جاری مبینہ غیر قانونی مائننگ میں استعمال ہونے والی بھاری مشینری کے ایک بڑے حصے کی ملکیت کے حوالے سے بھی سیاسی شخصیات اور بااثر افراد کے نام سامنے آتے رہے ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
حالیہ فائرنگ کے واقعے کے بعد پولیس کریک ڈاؤن کو غیر قانونی گولڈ مائننگ کے خلاف اہم کارروائی قرار دیا جارہا ہے، جبکہ مقدمات میں دہشت گردی کی دفعات شامل کیے جانے سے معاملے کی سنگینی مزید بڑھ گئی ہے۔
پولیس کارروائی کے بعد اب اصل توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ غیر قانونی مائننگ کے نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کہاں تک پہنچتی ہے اور فائرنگ کے واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کس نتیجے تک پہنچتی ہے۔



