آزاد کشمیر سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ، حکومتی موقف درست قرار

مظفر آباد(خصوصی رپورٹ:جانو ڈاٹ پی کے)آزاد جموں و کشمیر میں جاری سیاسی کشیدگی اور احتجاجی تحریک کے دوران سپریم کورٹ نے اتوار کے روز ایک اہم اور تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے حکومت کو بڑی قانونی حمایت فراہم کر دی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے 12 مہاجر نشستوں کے خاتمے سے متعلق دائر صدارتی ریفرنس پر اپنی رائے دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان نشستوں کو کسی انتظامی حکم یا ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے تبدیل یا ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق، مہاجر نشستیں آئینی تحفظ رکھتی ہیں اور ان میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کے لیے اسمبلی میں دو تہائی اکثریت کے ساتھ آئینی ترمیم ناگزیر ہے۔ عدالت نے دو ٹوک الفاظ میں قرار دیا کہ ریاست میں فیصلے کا حق سڑکوں پر احتجاج یا دھونس کو نہیں بلکہ آئین و قانون کو حاصل ہے۔ عدالت نے احتجاج کرنے والوں کو متنبہ کیا کہ پرامن احتجاج آئینی حق ضرور ہے، لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں کو یرغمال بنانا، املاک کو نقصان پہنچانا اور معمولات زندگی مفلوج کرنا ریاست سے بغاوت کے زمرے میں آتا ہے۔
سپریم کورٹ نے حکومت کی اس رائے کی توثیق کی ہے کہ آئینی مسائل کا حل صرف منتخب اسمبلی اور پارلیمانی بحث کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اس فیصلے کے بعد حکومت کا موقف مزید مضبوط ہو گیا ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اب ریاست رٹ برقرار رکھنے کے لیے سخت اقدامات اٹھائے گی۔




