فہمیدہ لغاری کیس: ورثا نے تحقیقاتی رپورٹ مسترد کر دی، جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ

میرپورخاص(شاہد میمن\ جانوڈاٹ پی کے) مبینہ ہراسمنٹ کے بعد خودکشی کرنے والی طالبہ فہمیدہ لغاری کے ورثا نے آئی جی سندھ کی جانب سے تشکیل دی گئی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کیس کی شفاف عدالتی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کر دیا۔
میرپورخاص پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مقدمے کے مدعی افتخار لغاری اور فہمیدہ لغاری کے والد انتظار لغاری نے کہا کہ پانچ رکنی تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ نامکمل، حقائق کے منافی اور کئی اہم سوالات کے جواب دینے میں ناکام رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں شامل اختلافی نوٹ میں بھی یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ اگر مبینہ ملزم عابد لغاری کی تقرری کے ذمہ دار کالج کے پرنسپل نہیں تھے تو پھر اس تقرری کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ ورثا کے مطابق کئی اہم شخصیات کے کردار کا مکمل جائزہ نہیں لیا گیا۔
فہمیدہ لغاری کے اہلخانہ نے مؤقف اختیار کیا کہ رپورٹ میں ایک جانب عابد لغاری کو غیر اہل قرار دیا گیا جبکہ دوسری جانب یہ تسلیم کیا گیا کہ وہ طویل عرصے تک ادارے میں تدریسی ذمہ داریاں انجام دیتا رہا، جس پر ذمہ داران کا تعین نہیں کیا گیا۔
ورثا کا کہنا تھا کہ انہیں انصاف کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، تاہم تحقیقاتی رپورٹ میں کئی اہم پہلوؤں اور مبینہ شواہد کو نظر انداز کیا گیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس کی آزادانہ تحقیقات اور بعض اہم تفتیشی نکات رپورٹ کا حصہ نہیں بنائے گئے۔
پریس کانفرنس کے دوران اہلخانہ نے فہمیدہ لغاری کو ذہنی یا نفسیاتی مسائل کا شکار قرار دینے کے تاثر کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ذہین، محنتی اور تعلیمی میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرنے والی طالبہ تھیں۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ہراسمنٹ سے متعلق مختلف حکام کو درخواستیں دی گئی تھیں، تاہم بروقت کارروائی نہیں کی گئی۔ ورثا کے مطابق کیس کی فرانزک رپورٹ تاحال موصول نہیں ہوئی جس کے باعث خدشات بڑھ رہے ہیں۔
فہمیدہ لغاری کے اہلخانہ نے مطالبہ کیا کہ معاملے کی مکمل اور غیر جانبدار جوڈیشل انکوائری کرائی جائے تاکہ تمام حقائق سامنے آسکیں اور ذمہ دار افراد کا تعین ہو سکے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ انصاف نہ ملنے کی صورت میں احتجاجی اور قانونی جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔



