جاپان میں تباہ کن زلزلہ، ہلاکتیں 28 ہو گئیں، ہزاروں گھر بجلی اور پانی سے محروم

جاپانی حکومت کے ترجمان مینورو کیہارا نے صحافیوں کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جن کی اموات کی وجوہات کی تحقیقات جاری ہیں۔
28 جولائی کو آنے والے شدید زلزلے نے کیوشو کے جزیرے میں وسیع پیمانے پر تباہی مچائی، جہاں درجنوں مکانات زمین بوس ہو گئے، پلوں کو شدید نقصان پہنچا اور کئی مقامات پر آگ بھڑک اٹھی۔ زلزلے کے بعد بجلی اور پانی کی فراہمی معطل ہونے سے ہزاروں شہری مشکلات کا شکار ہیں۔
سب سے زیادہ متاثرہ علاقے کاشیما میں واقع ایون شاپنگ مال کے ملبے تلے ممکنہ زندہ بچ جانے والے افراد کی تلاش کے لیے سینکڑوں ریسکیو اہلکار مسلسل امدادی کارروائیاں کر رہے ہیں۔ حکام کے مطابق شاپنگ مال زلزلے کے تقریباً 50 منٹ بعد ایک شدید دھماکے کے نتیجے میں منہدم ہو گیا تھا، جبکہ اس وقت عمارت کے اندر عملے کے متعدد ارکان موجود تھے۔
دوسری جانب یاتسوشیرو شہر میں نیپون پیپر انڈسٹریز کی فیکٹری کی چمنی کا ایک حصہ گرنے سے 5 افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ 4 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
حکام کے مطابق زلزلے کے بعد مسلسل آنے والے آفٹر شاکس نے مقامی آبادی میں خوف و ہراس پیدا کر رکھا ہے۔ اس کے ساتھ ہی علاقے میں شدید گرمی اور حبس کی لہر بھی جاری ہے، جہاں درجہ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ہے، جس پر حکام نے ہیٹ سٹروک سے متعلق وارننگ جاری کر دی ہے۔
تازہ اعداد و شمار کے مطابق 22 ہزار سے زائد گھر تاحال بجلی سے محروم ہیں، جبکہ 84 ہزار سے زائد گھرانوں کو پینے کے پانی کی فراہمی معطل ہے۔ ٹی وی فوٹیج میں متاثرہ شہریوں کو راشن، پانی اور پیٹرول کے حصول کے لیے طویل قطاروں میں کھڑا دیکھا جا سکتا ہے۔



