جامعہ کراچی کے پروفیسر پر حملہ،پستول کے بٹ مار مار کر ادھ مواکردیا

کراچی (جانو ڈاٹ پی کے) جامعہ کراچی کے شعبہ علوم اسلامیہ کے سربراہ پروفیسر عارف خان ساقی پر مبینہ تشدد کے واقعے میں پولیس نے 3 افراد کو حراست میں لے لیا، جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔
پولیس کے مطابق پروفیسر عارف ساقی آن لائن ٹیکسی کے ذریعے جامعہ کراچی جارہے تھے کہ راستے میں ایک مقام پر گاڑی رکی۔ اسی دوران ایک ڈبل کیبن گاڑی نے ریورس کرتے ہوئے آن لائن ٹیکسی کو ٹکر مار دی۔
پولیس کے مطابق گاڑی میں مقامی ہوٹل کے مالک کا بیٹا اور اس کے گن مین سوار تھے۔ ٹکر کے بعد مبینہ طور پر تلخ کلامی ہوئی اور پروفیسر عارف ساقی کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ الزام ہے کہ ملزمان نے ان کے سر پر پستول کے بٹ مارے، دھکے دیے اور گھسیٹتے ہوئے ایک ریسٹورنٹ کے اندر لے گئے، جہاں مبینہ طور پر دوبارہ تشدد کیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ زیرحراست افراد ہوٹل کے ملازم ہیں جبکہ واقعے میں ملوث مزید افراد کی تلاش جاری ہے۔
متاثرہ پروفیسر عارف ساقی کے مطابق آن لائن ٹیکسی کی گاڑی کو ٹکر لگنے کے بعد انہوں نے گاڑی میں سوار افراد سے کہا تھا کہ غریب ڈرائیور کے نقصان کا ازالہ کردیا جائے۔ ان کے بقول اس پر ہوٹل کے مالک کے بیٹے نے مبینہ طور پر انہیں پستول کے بٹ مارے اور ہوائی فائرنگ بھی کی۔
دوسری جانب انجمن اساتذہ جامعہ کراچی نے پروفیسر عارف ساقی پر مبینہ تشدد کی شدید مذمت کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے واقعے کا فوری نوٹس لینے اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
پروفیسر عارف ساقی کی مدعیت میں مقدمہ درج
جامعہ کراچی کے پروفیسر پر مبینہ تشدد کے واقعے کا مقدمہ بھی درج کرلیا گیا ہے۔ مقدمہ پروفیسر عارف خان ساقی کی مدعیت میں سچل تھانے میں درج کیا گیا۔
ایف آئی آر میں کونین علی گوہر شاہ سمیت دیگر افراد کو نامزد کیا گیا ہے، جبکہ مقدمے میں اقدام قتل، مارپیٹ، زخمی کرنے اور حبسِ بے جا سمیت مختلف دفعات شامل کی گئی ہیں۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق مدعی نے مؤقف اختیار کیا کہ دو گن مینوں نے انہیں اور ان کے بھتیجے کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ صفورا چوک پر گاڑی کو نقصان پہنچنے کے بعد انہوں نے مبینہ طور پر نقصان کے ازالے کا مطالبہ کیا، جس کے بعد صورتحال سنگین ہوگئی۔
ایف آئی آر کے مطابق زخمی ہونے کے بعد ملزمان انہیں اور ان کے بھتیجے کو ایک ہوٹل لے گئے، جہاں مبینہ طور پر دونوں کو حبسِ بے جا میں رکھا گیا اور تشدد کیا گیا۔
پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں اور مزید ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔



