فلسطینی قیدیوں کیساتھ جنسی زیادتی کی رپورٹ شائع کرنےپر اسرائیل کا نیویارک ٹائمز پر مقدمہ دائر کرنے کا اعلان

تل ابیب(جانوڈاٹ پی کے)اسرائیلی حکومت نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق ہتک عزت کا یہ دعویٰ اخبار میں شائع ہونے والے ایک تفصیلی مضمون کے خلاف عائد کیا جائے گا۔

جس میں اسرائیلی فورسز کے فلسطینی قیدیوں پر جنسی تشدد اور زیادتی کے سنگین الزامات لگائے گئے تھے۔

یہ مضمون معروف امریکی صحافی نے تحریر کیا جس میں 14 فلسطینی مرد اور خواتین کے بیانات شامل تھے۔

ان افراد نے الزام لگایا کہ اسرائیلی حراستی مراکز اور دورانِ گرفتاری انھیں جنسی تشدد، برہنہ کرنے، دھمکانے اور جسمانی بدسلوکی کا نشانہ بنایا گیا۔

اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کے دفتر نے اعلان کیا کہ وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ نے اخبار کے خلاف قانونی کارروائی شروع کرنے کی ہدایت کی ہے۔

اسرائیلی حکومت نے اس رپورٹ کو خون پر مبنی بہتان اور جدید صحافت میں اسرائیل کے خلاف شائع ہونے والا بدترین جھوٹ قرار دیا۔

نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل خاموش نہیں رہے گا ہم ان جھوٹوں کا مقابلہ عوامی رائے اور عدالت دونوں میں کریں گے۔

دوسری جانب نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ مضمون گہری تحقیق پر مبنی رائے نویسی تھا۔

اخبار کے ترجمان چارلی اسٹیڈلینڈر متاثرین کے بیانات کی جہاں ممکن ہوا، دیگر گواہوں، اہلِ خانہ، وکلا، انسانی حقوق تنظیموں اور اقوام متحدہ کی دستاویزات سے تصدیق کی گئی۔

رپورٹ میں اقوام متحدہ کے ایک تحقیقاتی کمیشن کا حوالہ بھی دیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ اسرائیلی سکیورٹی نظام کے اندر جنسی تشدد فلسطینیوں کے ساتھ ناروا سلوک کا معمول کا طریقہ بنتا جا رہا ہے۔

اسی طرح سی پی جے کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی حراست میں لیے گئے تقریباً ایک تہائی فلسطینی صحافیوں نے جنسی تشدد یا ہراسانی کی شکایات کیں۔

یاد رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کے بعد غزہ جنگ شروع ہونے سے اسرائیلی جیلوں اور حراستی مراکز میں فلسطینی قیدیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔

اسی دوران مختلف انسانی حقوق تنظیموں، اقوام متحدہ کے ماہرین اور صحافتی اداروں کی رپورٹس میں فلسطینی قیدیوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی، تشدد اور جنسی ہراسانی کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ Reem Alsalem نے گزشتہ برس کہا تھا کہ اسرائیل نے نہ تو فلسطینیوں اور نہ ہی اسرائیلیوں کے خلاف جنسی جرائم کے آزادانہ بین الاقوامی تحقیقات کی اجازت دی۔

مزید خبریں

Back to top button