5ڈیم جوزیرتمیر ہیں بننے کے بعد بھارت دریائے چناب کا ایک قطرہ بھی پانی نہیں آنے دے گا، راناثنااللہ

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)راناثنااللہ نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ترمیم جب بھی ہو گی،28ویں ہو گی،کیونکہ27ویں ترمیم ہو چکی،ایسانہیں ہے کہ آئین میں ترمیم کا راستہ بند ہو گیا،قومی مسائل پر بات چیت ہوتی رہنی چاہیے۔

تفصیلات کے مطابق رانا ثناءاللہ نے کہا کہ بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہاہے،چیئرمین واپڈا کے پاس اطلاعات ہیں بھارت میں 5 ڈیم بن رہے ہیں،5ڈیم بننے کے بعد بھارت دریائے چناب کا ایک قطرہ بھی پانی نہیں آنے دے گا،بھارت میں 5 ڈیم 2029 تک مکمل ہو جائیں گے، پیپلز پارٹی کسی بھی چیز پر بات چیت سے نہیں گھبراتی، پیپلز پارٹی کے ساتھ این ایف سی پر بات ہو رہی ہے،دفاعی اخراجات کا بوجھ سب کو مل کر اُٹھانا چاہیے،سیاسی قیادت بیٹھے گی تو ہو سکتا ہے اس سے بہتر تجویز آجائے،کوشش اور محنت کے باوجود معیشت میں وہ بہتری نہیں آرہی جوآنی چاہیے،صدر مملکت آصف زرداری سے ہماری الگ سے ملاقات ہوئی تھی۔

راناثنااللہ کا کہنا تھا کہ صدر مملکت نے کہا تھا پانی کے مسئلے پر سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے،وزیراعظم شہبازشریف اور صدر مملکت کی بھی ملاقات ہوئی،کالاباغ ڈیم پہلے ہی بن جاتا تو یہ صورتحال نہ ہوتی،پانی کے مسئلے پر چند ہفتے بعد سب کو نظرآئے گا بھارت کیا کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ضروری نہیں 18 ویں ترمیم کوآگے پیچھے کر کے ہی این ایف سی تبدیل کیاجائے،30جون سے پہلےاین ایف سی کا معاملہ حل ہوتا مشکل نظرآتاہے،ٹیکسیشن کے معاملے پر اتحادیوں کو اعتراضات ہوتے ہیں،اتحادیوں سے معیشت پربات چیت کیلئے اسحاق ڈار کی سپورٹ ساتھ ہوتی ہے،ٹیکسیشن کے حوالے سے جو پالیسی بنے گی اسحاق ڈار اتحادیوں سے بات کریں گے،پیپلزپارٹی سیاسی اعتبار سے غیر ضروری نہیں ہوئی،پانی معاہدے میں وزیراعلیٰ سندھ کا خیال ہےاُن سے جو بات ہوئی پوری نہیں کی گئی،نہروں کے مسئلے پر جو لوگ سڑکوں پر انہیں سمجھانا چاہیے،جو لوگ سڑکوں پر آئے ہم ان سے بات چیت کیلئے تیار ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button