ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کیس:  حکومت میں دراڑیں پڑ رہی ہیں؟

​اسلام آباد: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے) وفاقی دارالحکومت کے انتہائی مہنگے اور اہم ترین منصوبے ‘ون کانسٹیٹیوشن ایونیو’ کے معاملے پر وزیراعظم شہباز شریف اور وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے درمیان مبینہ طور پر ‘سینگ پھنس’ گئے ہیں۔ وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی جانب سے راتوں رات کی گئی چھاپہ مار کارروائی اور رہائشیوں کو دی گئی 24 گھنٹے کی ڈیڈ لائن کے خلاف وزیراعظم نے سخت ایکشن لیتے ہوئے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دے دی ہے اور حتمی فیصلے تک سی ڈی اے (CDA) کی ہر قسم کی کارروائی روکنے کا حکم دے دیا ہے۔

​ یہ اقدام غیر معمولی ہے کیونکہ محسن نقوی کو مقتدر حلقوں اور صدر آصف علی زرداری کا انتہائی قریبی سمجھا جاتا ہے۔ محسن نقوی نے عدالتی چھٹیوں (ہفتہ اور اتوار) کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس پراپرٹی کو خالی کرانے کی کوشش کی تھی تاکہ متاثرین عدالت سے ریلیف حاصل نہ کر سکیں، لیکن وزیراعظم نے ایک ہفتے کا وقت دے کر درحقیقت انتظامیہ کی کارروائی پر ‘سٹے آرڈر’ جاری کر دیا ہے۔ اس پلازے کی مارکیٹ ویلیو اربوں روپے ہے اور یہاں پاکستان کی رولنگ ایلیٹ، بشمول سابق جرنیلوں، وزرائے اعظم اور وزراء کے اپارٹمنٹس موجود ہیں، جن میں وفاقی وزیر خواجہ آصف کے بیٹے کا نام بھی شامل ہے۔

​دوسری جانب، امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے حوالے سے رائٹرز (Reuters) کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کانگریس سے جنگ کی منظوری لینے سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے۔ امریکی قانون کے مطابق صدر 60 دن تک بغیر اجازت فوجی کارروائی کر سکتا ہے، اور چونکہ حالیہ ہفتوں میں لڑائی میں وقفہ آیا ہے، اس لیے انتظامیہ کا موقف ہے کہ ’60 دن کا مسلسل تواتر’ ٹوٹ چکا ہے اور انہیں مزید منظوری کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے علاوہ، بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کے بیٹے ایرک ٹرمپ کی دولت میں گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، اور ان کی حمایت یافتہ کمپنی نے امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کے ساتھ ڈرونز کی فراہمی کا بڑا معاہدہ کر لیا ہے، جس پر ‘مفادات کے ٹکراؤ’ (Conflict of Interest) کی بحث چھڑ گئی ہے۔ ایران کے حوالے سے سپریم لیڈر کے دفتر نے ان کی صحت کے بارے میں اسرائیلی میڈیا کی افواہوں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای بالکل خیریت سے ہیں۔

سید ​عمران شفقت کا یہ تفصیلی تجزیہ دیکھنے کے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ کریں:

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button