امریکا نے حملے روکے تو ایران نے بھی جوابی کارروائیاں معطل کر دیں، ایرانی فوج کا دعویٰ

تہران(مانیٹرنگ ڈیسک) ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرامینیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے گزشتہ دو راتوں کے دوران اپنے حملے روک دیے، جس کے بعد ایران نے بھی اپنی جوابی فوجی کارروائیاں معطل کر دی ہیں۔
ایک بیان میں محمد اکرامینیا نے کہا کہ امریکا اس وقت اسٹریٹیجک فیصلہ سازی میں تھکن کا شکار ہے اور اس کے پاس کوئی واضح حکمتِ عملی موجود نہیں۔ ان کے مطابق یہ صورتحال امریکی صدر کے فیصلوں اور سینٹکام کی حالیہ کارکردگی سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔
ایرانی فوج کے ترجمان نے کہا کہ گزشتہ 14 سے 15 روز کے دوران ایران کی فوجی کارروائیوں کا بنیادی ہدف امریکی ریڈار تنصیبات اور فوجی معاونت فراہم کرنے والے مراکز تھے، تاکہ امریکا کو مزید حملوں سے روکا جا سکے۔
جنرل اکرامینیا کے مطابق ایران نے اس دوران یہ کوشش بھی کی کہ امریکا دوبارہ مذاکرات کی میز پر آئے اور دونوں ممالک کے درمیان طے شدہ مفاہمتی یادداشت کی شقوں پر عمل درآمد کیا جائے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فی الحال ایران کے خلاف مزید بڑے فوجی حملوں کا منصوبہ مؤخر کر دیا ہے، جبکہ دفاعی میزائلوں کے ذخائر میں کمی کو اس فیصلے کی اہم وجوہات میں شمار کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ایرانی فوج کے ایک اور ترجمان جنرل ابوالفضل شکارچی نے کہا کہ امریکا آبنائے ہرمز اور ایران کو کمزور کرنے کے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے اور موجودہ صورتحال واشنگٹن کے لیے ناکامی اور انتشار کی عکاسی کرتی ہے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکا اب نئی حکمتِ عملی کی تلاش میں ہے، جبکہ جنگ سے ممکنہ دستبرداری بھی اسرائیل کی منظوری سے مشروط ہو سکتی ہے۔



