ایران کا متعدد ممالک میں امریکی اڈوں پر جوابی حملوں کا دعویٰ، قطر، کویت اور اردن نے حملے ناکام بنانے کا اعلان

تہران/دوحہ(ویب ڈیسک) ایران نے امریکا کی جانب سے مسلسل چھٹے روز ہونے والی فضائی کارروائیوں کے جواب میں بحرین، شام، کویت، قطر اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ متعلقہ ممالک نے متعدد ڈرون اور میزائل حملے ناکام بنانے کی تصدیق کی ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کے مطابق شام میں واقع امریکی اسپیشل آپریشنز کمانڈ سینٹر کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایرانشہر میں ایرانی فوجیوں پر امریکی حملوں کے ردعمل میں کی گئی۔
ایرانی فوج نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہے اور اگر امریکی حملے جاری رہے تو آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل اور گیس کی برآمدات معطل رہیں گی۔ ایران نے امریکی فوجی کارروائیوں کو خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔
ایرانی فوج نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بحرین کے سخیر بیس پر امریکی ہیلی کاپٹروں اور جاسوس طیاروں کو ڈرون حملوں میں نشانہ بنایا گیا، جبکہ کویت میں امریکی میزائل دفاعی نظام پر بھی ڈرون حملے کیے گئے۔
دوسری جانب کویت کی وزارت دفاع نے بتایا کہ ملکی فضائی حدود میں داخل ہونے والے 32 ایرانی ڈرونز کا بروقت سراغ لگا کر انہیں تباہ کر دیا گیا۔ وزارت دفاع کے ترجمان کرنل سعود عبدالعزیز العطوان کے مطابق حملوں کا ہدف اہم فوجی اور حساس تنصیبات تھیں، تاہم تمام ڈرونز کو کامیابی سے روک لیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ تباہ کیے گئے ڈرونز کا ملبہ مختلف رہائشی علاقوں میں گرا، جس سے کچھ مالی نقصان ہوا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ وزارت دفاع نے واضح کیا کہ کویتی مسلح افواج قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر الرٹ ہیں۔
ادھر قطر کی وزارت دفاع نے اعلان کیا کہ قطر کو نشانہ بنانے والا میزائل حملہ ناکام بنا دیا گیا۔ وزارت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایک میزائل کا ملبہ گرنے سے ایک بچہ زخمی ہوا، جسے فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔
ایرانی فوج نے اردن میں بھی ایک ہوائی اڈے پر میزائل حملوں کا دعویٰ کیا، تاہم اردنی فوج کے مطابق فضائی حدود میں داخل ہونے والے تین ایرانی میزائل تباہ کر دیے گئے اور اس واقعے میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔



