بدین: چھ ماہ گزر گئے،14 سالہ طالب علم کی موت کا معمہ حل نہ ہوسکا،والد کا اعلیٰ حکام سے تحقیقات کا مطالبہ

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/ جانو ڈاٹ/ پی کے)چھ ماہ گزرنے جانے کے بعد بھی بدین پولیس نویں جماعت کے طالب علم 14 سالہ محمد رمضان پنھور کے قتل یا خودکشی کا معمہ حل کرنے میں ناکام ہوگئی ہے ایماندار پولیس افسران کی نگرانی میں جے آئی ٹی تشکیل دیکر اصل حقائق سامنے لاکر اور ملزمان کا تعین کیا جائے اور ہمیں انصاف دیا جائے مقتول کے والد کی اپیل تفصیل کے مطابق رواں سال کے چھ ماہ قبل 23 اپریل کوبدین کے نواحی گاؤں حسین پنھور کے رہائشی 14 سالہ نویں جماعت کے طالب علم محمد رمضان پنھور کی گاؤں سے منسلک گاؤں یوسف پنھورمیں ایک ویران جگہ کے ایک کمرے میں گلے میں پھندا ڈلا ہوا اور چھت کے پنکھے میں لٹکی لاش برآمد ہونے کے بعد نندو پولیس نے لاش کا پوسٹ مارٹم کرانے کے بعد لاش ورثہ کے حوالے کردیا گیا اور مقتول کے والد علی احمد پنھور کی مدعیت میں نندو شہر تھانے پر قلم 302-201-34 پی پی سی کے تحت نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ مہ درج کیا گیا ہے لیکن چھ ماہ گزر جانے کے بعد بھی نندو پولیس یہ معمہ حل کرنے میں مکمل ناکام ہو گئی ہے کہ بچے محمد رمضان پنھور نے خود کشی کی تھی یا اسکو قتل کیا گیا تھا بچے کے والد علی احمد پنھور نے گزشتہ روز بدین پریس کلب پہنچ کر بدین پولیس پر عدم اعتماد کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کے چھ ماہ قبل 23 اپریل کے دن میرا بیٹا گاؤں کی مسجد میں حزب دستور قرآن شریف پڑھنے گیا تھا اور چھٹی کے بعد مسجد سے نکلا اور غائب ہو گیا جس کو ہم تلاش کر تے رہے لیکن اس کا پتہ نہیں چلا دو دن بعد 25 اپریل کو گاؤں یوسف پنھور کے بچے کھیلتے ہو ہوئے گاؤں کی اسی ویران عمارت میں گئے تو انہونے گلے میں پھندا ڈلا اور چھت میں لٹکا لاش دیکھا تو انہونے گاؤں کے لوگوں کو اطلاع دی جنہونے ہمیں اطلاع دی اور میں گاؤں کے دوسرے افراد کے ساتھ وہاں پہنچا دیکھا کے میرے بیٹے کے گلے میں پھندہ تھا اور اس کی لاش چھت کے پنکھے کی راڈ میں ٹنگی ہوئی تھی ہم نے مندو پولیس کو اطلاع کی جس نے وہاں پہنچ کر لاش اپنی تحویل میں لیکر پوسٹ مارٹم کے لیئے RHC مندو شہر منتقل کردی اور پوسٹ مارٹم کے بعد پولیس نے بچے کی لاش ہمارے حوالے کردی اور بچے محمد رمضان پنھور کی تدفین کے بعد مینے نندو شہر تھانے پر نامعلوم افراد کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرایا جس پر پولیس نے خود تفتیش کے دوران تین افراد اور ایک نامعلوم اور عورت کو شامل تفتیش کیا ان تینوں افراد میں سے ایک شخص جمن پنھور خود پولیس کے پاس پیش بھی ہوا لیکن پولیس نے بعد میں اس کو بھی آ زاد کردیا اور مزید تفتیش بند کردی جس پر مینے ڈسٹرکٹ سیشن جج بدین کو درخواست دی جنہونے ایس ایس پی کو تحقیقاتی کرنے کا حکم کیا جس پر ایس ایس پی بدین نے ڈی ایس پی بدین کی نگرانی میں ایک جے آئی ٹی تشکیل دی لیکن اس کے آ ئیے ٹی نے بھی یہ تعین نہیں کیا کے میرے بیٹے کو قتل کیا گیا ہے یا اس نے خود کشی کی ہے اور میرے بیٹے کی پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی مجھے فراہم نہیں کی جا رہی مقتول محمد رمضان پنھور کے والد علی احمد پنھور نے کہا کے ہماری کسی سے دشمنی نہیں ہے اور نہ ہی میرے بیٹے کو کوئی ایسی پریشانی تھی نہ ہی اس کی غلط صحبت کے لڑکوں سے دوستی تھی انہونے کہا کے مجھے شک ہے کے میرے بیٹے کو قتل کیا گیا ہے کیوں کے پولیس نے خود ان افراد اور ایک عورت کو شامل تفتیش کیا اور چھ ماہ گزرنے کے بعد بھی اس مقدمے کو عدالت میں چالان نہیں کیا گیا اور نہ ہی پوسٹ مارٹم رپورٹ ظاہر کی جا رہی ہے انہونے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ آ ئی جی سندھ کو اپیل کی ہے کے ایک جج اور ایماندار پولیس افسران پر مشتمل جے آ ئیے ٹی تشکیل دیکر اصل حقائق منظر عام پر لائے جائیں ۔



