ماحولیاتی تبدیلی بڑا چیلنج، شعور کے بغیر محفوظ مستقبل ممکن نہیں، عطا تارڑ

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ انسانیت کو درپیش سب سے بڑا چیلنج ماحولیاتی تبدیلی ہے اور اسے روکنے کے لیے سب سے بنیادی ضرورت شعور ہے، جس کے بغیر نہ مؤثر اقدامات ممکن ہیں اور نہ ہی محفوظ مستقبل کی ضمانت دی جا سکتی ہے۔

اسلام آباد میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس ”گرین جرنلزم“ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحافی برادری نے ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور اس مقصد کے لیے عملی اقدامات اور پلیٹ فارم قابلِ تحسین ہیں۔

عطا تارڑ نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی صرف ایک سائنسی یا پالیسی مسئلہ نہیں بلکہ ایک انسانی المیہ ہے، جو پوری انسانیت کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے، جو ایک انسان کی جان بچاتا ہے وہ پوری انسانیت کو بچاتا ہے، جیسے آفاقی پیغام آج بھی دنیا کے لیے مشعلِ راہ ہیں اور انہیں عام کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی شعور کو ایک ثقافتی تبدیلی کے طور پر اپنانا ہوگا، کیونکہ دنیا میں درجہ حرارت کی شدت، سیلاب، خشک سالی، اور موسموں کی غیر معمولی تبدیلیاں انسانوں کی زندگیوں کو متاثر کر رہی ہیں، پاکستان سمیت دنیا بھر میں لوگ سانس اور پھیپھڑوں کی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں، خاص طور پر وہ آبادی جو دریاؤں اور نشیبی علاقوں کے قریب رہتی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ دنیا کو یہ پیغام دینا ضروری ہے کہ ہر شہری ماحولیاتی تحفظ میں اپنا کردار ادا کرے، یہ صرف قومی ذمہ داری نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی فریضہ بھی ہے، کیونکہ اسلام بھی ماحولیات اور انسانی زندگی کے تحفظ پر زور دیتا ہے۔

انہوں نے قرآن مجید اور احادیث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلام نے 1400 سال پہلے ہی انسانی جان اور ماحول کے تحفظ کا پیغام دیا تھا، اور آج بھی وہی اصول انسانیت کے لیے رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔

عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے گزشتہ برسوں میں شدید ماحولیاتی آفات کا سامنا کیا ہے، جن میں 2010 اور 2022 کے تباہ کن سیلاب شامل ہیں، جن کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا رہے ہیں، ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور اس کے لیے اجتماعی شعور ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر کانفرنس کے اختتام پر ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جاتا ہے، تاہم وہ چاہتے ہیں کہ اس میں ماحولیاتی آگاہی کے حوالے سے ایک الگ اعلامیہ بھی شامل کیا جائے، جس میں میڈیا، وزارتوں اور دیگر اداروں کی مشترکہ ذمہ داریوں کو واضح کیا جائے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے آج کے دور میں سوشل میڈیا پر منفی اور متنازع مواد زیادہ توجہ حاصل کرتا ہے، جس کے باعث مثبت اور تعمیری پیغامات پس منظر میں چلے جاتے ہیں، میڈیا ہاؤسز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ ماحولیاتی آگاہی کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔

مزید خبریں

Back to top button