سرکاری ملازمین کے مطالبات سامنے آگئے، تنخواہوں، پنشن اور الاؤنسز میں بڑے اضافے کا مطالبہ

اوکاڑہ (رپورٹ: وحید آرائیں\جانوڈاٹ پی کے) آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس (پنجاب) کے عہدیداران نے وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف سے آئندہ بجٹ 2025-26 میں سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لیے خصوصی ریلیف پیکج دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
الائنس کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ 30 فیصد ڈسپرنٹی الاؤنس بحال کرتے ہوئے اس کے بقایاجات ادا کیے جائیں اور موجودہ شرح میں مزید 15 فیصد اضافہ کیا جائے۔ اس کے ساتھ سابقہ تمام ایڈہاک الاؤنسز کو بنیادی تنخواہ میں ضم کر کے مہنگائی کے تناسب سے تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے۔
عہدیداران کا کہنا تھا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیش نظر پنشن میں بھی تنخواہوں کے برابر نمایاں اضافہ کیا جائے، جبکہ طویل عرصے سے منجمد ہاؤس رینٹ اور میڈیکل الاؤنسز کو بھی سالانہ بنیادوں پر تنخواہوں اور پنشن کے مطابق بڑھایا جائے۔
انہوں نے وفاقی اور صوبائی ملازمین کی تنخواہوں، الاؤنسز اور دیگر مراعات میں یکسانیت لانے، بینوولنٹ فنڈ اور گروپ انشورنس کی بروقت ادائیگی یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا۔
الائنس کے مطابق اساتذہ سمیت تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کو انکم ٹیکس سے مستقل استثنیٰ دیا جائے، جبکہ پنشن اور لیو انکیشمنٹ کے سابقہ قوانین بحال کیے جائیں۔
رہنماؤں نے مزید مطالبہ کیا کہ سرکاری اداروں کی آؤٹ سورسنگ ختم کی جائے، نئی بھرتیوں پر عائد پابندی اٹھائی جائے اور ملازمین کو مکمل روزگار تحفظ اور بہتر سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ وہ معاشی پریشانیوں سے آزاد ہو کر اپنی ذمہ داریاں بہتر انداز میں انجام دے سکیں۔
عہدیداران نے امید ظاہر کی کہ وزیراعظم سرکاری ملازمین کے جائز مطالبات پر سنجیدگی سے غور کریں گے اور ان کے مسائل حل کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں گے تاکہ ملازمین کو احتجاج یا ہڑتالوں کا راستہ اختیار نہ کرنا پڑے۔



