امریکہ محفوظ رہنا چاہتا ہے تو خطے سے نکل جائے، ایران کا واشنگٹن کو دوٹوک انتباہ

تہران(مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر واشنگٹن محفوظ رہنا چاہتا ہے تو اسے مشرقِ وسطیٰ سے اپنی فوجی موجودگی ختم کرنا ہوگی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں عباس عراقچی نے ایران پر امریکی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے میدانِ جنگ میں ناکامیوں کے باوجود ایران کی قوتِ ارادی کو آزمانے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کی طاقتور مسلح افواج کسی بھی حملے، جارحیت یا دھمکی کا جواب دیے بغیر نہیں رہیں گی اور ملک کے دفاع کیلئے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے، تاہم قومی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کیلئے دیگر تمام آپشنز بھی موجود ہیں۔ ان کے مطابق ایرانی افواج ماضی کی طرح ہر قسم کے خطرے کا مؤثر جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز بین الاقوامی پانی نہیں بلکہ ایران اور عمان کے درمیان واقع مشترکہ آبی گزرگاہ ہے، جس کی بحری حدود واضح اور متعین ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ایرانی مسلح افواج فضائی، زمینی اور بحری حدود کی کسی بھی خلاف ورزی سے نمٹنے کیلئے ہائی الرٹ ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ خطے میں غیر ملکی افواج کی موجودگی کشیدگی اور خطرات میں اضافے کا سبب بن رہی ہے، جبکہ امن اور استحکام کا مؤثر راستہ یہی ہے کہ بیرونی فوجیں خطے سے واپس چلی جائیں۔



