متنازع ادارے ‘سی سی ڈی’ اور پولیس کے خلاف غیظ و غضب کا طوفان؛آئی جی پنجاب سمیت پوری عسکری و انتظامی کمان لائن حاضر!

لاہور(خصوصی رپورٹ:جانو ڈاٹ پی کے)پنجاب کا سب سے بڑا عسکری و انتظامی تنازعہ حل ہو گیا، مقتدر حلقوں کے درمیان طویل رسہ کشی کے بعد آخر کار سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان کی بڑی اور تاریخی جیت ہو گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق آئی جی پنجاب اور ڈی پی او قصور سمیت اعلیٰ بیوروکریسی اور پولیس حکام سرکش رویہ چھوڑ کر سپیکر کے سامنے لائن حاضر ہو گئے ہیں جس سے پارلیمنٹ کی بالادستی کا دباؤ رنگ لے آیا ہے۔ یہ پیش رفت سپیکر پنجاب اسمبلی کی اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف سے انتہائی اہم اور ہنگامی ملاقات کے بعد سامنے آئی، جس کے فوراً بعد آئی جی پنجاب کو گھٹنے ٹیکنے پڑے اور پولیس کا پورا دھڑا مانیٹرنگ کمیٹی کے سامنے پیش ہو گیا۔ اسی دوران ایوان کے اندر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے متنازع ادارے سی سی ڈی کے خلاف طوفان کھڑا ہو گیا ہے اور تقریباً 70 کے قریب ارکانِ اسمبلی نے ان کے خلاف سنگین شکایات کے انبار لگاتے ہوئے تحریکِ استحقاق جمع کرا دی ہے۔ دوسری جانب، سپیکر ملک احمد خان نے انصاف کی اعلیٰ مثال قائم کرتے ہوئے ڈی پی او قصور کے معاملے پر کمیٹی کی صدارت سے خود کو الگ کر لیا کیونکہ یہ معاملہ ان کے اپنے حلقے کا تھا، جس کے بعد یہ حساس ترین کیس اب سمیع اللہ خان کی سربراہی میں قائم پریولج کمیٹی کو بھیج دیا گیا ہے جہاں کل صبح افسران کی سخت ترین جواب دہی ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی، اسمبلی میں غنڈہ ایکٹ کو تبدیل کرنے والے نئے قانون پر بھی شدید بحث چھڑ گئی ہے جبکہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کی اسسٹنٹ کمشنر کے خلاف کارروائی نہ ہونے پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری کو بھی کٹہرے میں طلب کر لیا گیا ہے۔




