غزہ کے شہید بچوں کی یاد میں 100 میٹر طویل یادگاری کفن نیویارک میں نمائش کے لیے پیش

نیویارک(جانوڈاٹ پی کے) غزہ میں جاں بحق ہونے والے 20 ہزار سے زائد فلسطینی بچوں کے ہاتھ سے لکھے ناموں پر مشتمل تقریباً 100 میٹر طویل یادگاری کفن نیویارک کے اقوام متحدہ چرچ سینٹر میں نمائش کے لیے پیش کردیا گیا۔

’’تعداد نہیں نام‘‘ کے عنوان سے پیش کیے گئے اس منصوبے کا مقصد جنگ میں جاں بحق ہونے والے بچوں کو محض اعداد و شمار کے بجائے ان کی انفرادی شناخت اور ناموں کے ساتھ یاد کرنا ہے۔ منتظمین نے اس موقع پر اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے خاتمے اور مبینہ جنگی جرائم کے احتساب کا مطالبہ بھی کیا۔

’’غزہ چلڈرنز شراوڈ‘‘ کے نام سے تیار کیے گئے اس منصوبے میں ڈاکٹرز اگینسٹ جینوسائیڈ، یو ایس اے پریٹس اگینسٹ جینوسائیڈ، جسٹس فار آل اور دیگر تنظیمیں شریک ہیں۔ تقریب میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی، قرآن پاک کی تلاوت کی گئی اور غزہ کے بچوں کی یاد میں بین المذاہب اجتماع بھی منعقد ہوا۔

منتظمین کے مطابق اس منصوبے کی تحریک اٹلی میں تیار کیے گئے ایک یادگاری کفن سے ملی، جہاں غزہ میں اپنے بچوں کی شناخت یقینی بنانے کے لیے بعض والدین کی جانب سے بچوں کے جسموں پر نام لکھنے کے المناک عمل کو یادگار کی شکل دی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ کفن پر درج ناموں کا مقصد بچوں کو جنگ کے اعداد و شمار میں گم ہونے سے بچانا ہے۔

یادگاری کفن نے یکم ستمبر کو فلاڈیلفیا سٹی ہال سے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا اور نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر اسے نمائش کے لیے پیش کیا گیا۔ منصوبے کے تحت اسے آئندہ مختلف شہروں میں لے جایا جائے گا، جبکہ ایک سال پر محیط عالمی مہم کے دوران ہر ماہ ایک نئے شہر میں نمائش، دعائیہ اور آگاہی پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔

اقوام متحدہ کے مطابق غزہ میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے دوران بچوں سمیت بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر وولکر ترک نے بھی ملبے سے لاشوں کی برآمدگی پر ممکنہ جنگی جرائم کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات کے لیے رسائی فراہم کرنے پر زور دیا ہے۔

منتظمین کے مطابق کفن پر درج ہر نام ایک بچے کی زندگی، شناخت اور اس کے خاندان کی یاد کی علامت ہے، تاکہ غزہ میں جاں بحق ہونے والے بچوں کو محض اعداد نہیں بلکہ نام اور شناخت رکھنے والے انسانوں کے طور پر یاد رکھا جائے۔

مزید خبریں

Back to top button