سعودی عرب کے دفاع کیلئے فرانس میدان میں آگیا، یانبو کی حفاظت کیلئے فوج بھیجنے کا اعلان

پیرس (جانو ڈاٹ پی کے) فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے سعودی عرب کے اہم بحیرہ احمر بندرگاہی شہر یانبو کی حفاظت کے لیے فوجی اہلکار، ریڈار اور دفاعی نظام بھیجنے کا اعلان کردیا۔فرانسیسی صدر نے ٹی وی چینلز TF1 اور France 2 کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ فرانس سعودی عرب کے ساتھ مل کر یانبو میں اہم توانائی تنصیبات کے تحفظ کے لیے فوجی وسائل فراہم کرے گا۔ ان کے مطابق اس اقدام میں فوجی اہلکاروں کے ساتھ ریڈار اور دفاعی نظام بھی شامل ہوں گے
یانبو سعودی عرب کے لیے تیل کی ترسیل کا اہم مرکز ہے اور بحیرہ احمر کے راستے توانائی کی برآمدات میں اس کی اسٹریٹجک اہمیت بڑھ گئی ہے۔ یانبو میں سعودی مشرق۔مغرب تیل پائپ لائن کا اختتام بھی ہوتا ہے، جس کے ذریعے خلیج فارس کے راستے کے بجائے بحیرہ احمر سے تیل برآمد کیا جاسکتا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے مختلف علاقوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنانے کے دعوے سامنے آئے ہیں۔ 19 ستمبر کو سعودی حکام نے ریاض کی جانب آنے والے بیلسٹک میزائل کو روکنے کی تصدیق کی تھی، جبکہ حوثیوں نے یانبو میں ایک آئل تنصیب کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔میکرون نے واضح کیا کہ فرانس کا اقدام سعودی عرب کی اہم تنصیبات کے دفاع کے لیے ہے اور پیرس کسی وسیع تر جنگ میں براہِ راست شامل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ فرانس کی جانب سے بھیجے جانے والے فوجی دستوں کی تعداد، دفاعی نظام کی نوعیت اور تعیناتی کی حتمی تاریخ تاحال ظاہر نہیں کی گئی۔
فرانسیسی صدر نے عالمی توانائی کی صورتحال پر بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تیل کی ترسیل میں خلل سے بچنے کے لیے فرانس سرگرم اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے فرانسیسی عوام کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ موسم سرما سے قبل ملک میں گیس اور تیل کی مناسب فراہمی موجود ہے۔
دوسری جانب خطے میں سعودی عرب کی دفاعی معاونت کے لیے دیگر ممالک کی سرگرمیاں بھی بڑھ رہی ہیں۔ فرانس کے اعلان کے ساتھ ہی سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کے حوالے سے اعلیٰ سطحی رابطے بھی جاری ہیں۔



