فضل الرحمان اورشہباز شریف میں اہم رابطہ،خیبرپختونخوا میں2روز تک گورنرراج نہ لگانےکی یقین دہانی کادعویٰ

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ٹیلیفونک رابطے کی اندرونی تفصیلات سامنے آگئیں۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے آئندہ دو روز تک خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، جس کے بعد مولانا فضل الرحمان سیاسی مشاورت اور رابطوں کے لیے تیار ہوگئے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان پارٹی قیادت، اپوزیشن اور حکومتی نمائندوں سے مزید رابطے کریں گے، جبکہ انہوں نے جمعیت علمائے اسلام کے سینئر رہنماؤں کو اسلام آباد میں موجود رہنے کی ہدایت بھی کردی ہے۔ ان کی ہدایت پر سینیٹر کامران مرتضیٰ نے اپنا دورۂ چین منسوخ کردیا۔
واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ رات حکومتی مشاورتی اجلاس کے بعد مولانا فضل الرحمان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا تھا، جس میں ملکی سیاسی صورتحال، مذاکراتی ڈیڈلاک اور پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم کو بتایا کہ وہ معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ سے گریز کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سے حکومتی جماعتوں کو سیاسی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم پر زور دیا کہ وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی معاملات بہتر بنانے کے لیے مذاکرات کو ایک اور موقع دیں۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت اب بھی مذاکرات کے حق میں ہے، تاہم اسلام آباد پر چڑھائی کسی صورت قبول نہیں کی جاسکتی۔ وزیراعظم نے پی ٹی آئی سے لانگ مارچ ختم کرکے مذاکرات کی میز پر واپس آنے کا مطالبہ کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ دو روز سیاسی رابطوں اور مشاورت کے حوالے سے اہم ہوسکتے ہیں، تاہم خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج سے متعلق حکومتی یقین دہانی کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔



