کلوئی میں مبینہ غیر قانونی کوئلے کی بھٹیاں، زہریلے دھویں اور درختوں کی کٹائی پر شہری پریشان

تھرپارکر (رپورٹ: میندھرو کاجھروی\ جانو ڈاٹ پی کے) تحصیل کلوئی اور گردونواح میں مبینہ غیر قانونی اور غیر رجسٹرڈ کوئلے کی بھٹیوں کے خلاف کارروائی نہ ہونے پر شہریوں میں تشویش بڑھنے لگی، بھٹیوں سے اٹھنے والے دھویں اور لکڑی کے استعمال کے باعث ماحولیاتی آلودگی اور درختوں کی کٹائی کے حوالے سے بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

مقامی افراد کے مطابق کلوئی، ونگو پتن اور ملحقہ علاقوں میں بعض مقامات پر مبینہ طور پر غیر قانونی کوئلے کی بھٹیاں قائم ہیں، جہاں لکڑی جلا کر کوئلہ تیار کیا جاتا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بھٹیوں سے نکلنے والے دھویں کے باعث علاقے میں فضائی آلودگی میں اضافہ ہورہا ہے اور لوگوں کو سانس لینے میں دشواری، کھانسی اور دیگر مسائل کا سامنا ہے۔

مقامی حلقوں نے دعویٰ کیا ہے کہ کوئلہ تیار کرنے کے لیے درختوں کی کٹائی میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس سے تھر کے قدرتی ماحول اور مقامی جنگلات کو نقصان پہنچنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر درختوں کی کٹائی اور مبینہ غیر قانونی بھٹیوں کا سلسلہ جاری رہا تو علاقے کے ماحول پر منفی اثرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔ مقامی باشعور حلقوں نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ کلوئی اور گردونواح میں قائم کوئلے کی بھٹیوں کی قانونی حیثیت، لکڑی کے استعمال اور ماحولیاتی اثرات کی مکمل جانچ کی جائے۔

کلوئی، ونگو پتن اور دیگر علاقوں کے رہائشیوں نے مطالبہ کیا کہ تحقیقات کے دوران اگر کوئی بھٹی قانونی یا ماحولیاتی ضوابط کی خلاف ورزی کرتی پائی جائے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، تاکہ فضائی آلودگی، درختوں کی کٹائی اور شہریوں کو درپیش مشکلات کا تدارک ممکن بنایا جاسکے۔

مزید خبریں

Back to top button