ڈونڈڑی میں میگھواڑ برادری کیساتھ مبینہ زیادتیوں کیخلاف احتجاج،فیصلہ نہ ہونے پر کشیدگی برقرار

تھرپارکر(رپورٹ:میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے)ڈیپلو کے قریب گاؤں ڈونڈڑی میں میگھواڑ اور ٹھکر برادریوں کے درمیان جاری تنازع اور مبینہ زیادتیوں کے معاملات پر ہونے والے مذاکرات کے باوجود کوئی حتمی فیصلہ نہ ہو سکا، جس کے باعث علاقے میں کشیدگی برقرار ہے۔ میگھواڑ برادری کے افراد کا الزام ہے کہ چند ماہ قبل ایک مزدور کی اینٹوں کی بھٹہ زبردستی بند کروا دی گئی، جبکہ ایک دوسرے مزدور کی کٹی ہوئی لکڑیاں گاڑی میں بھر کر چوری کروا لی گئیں۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ مقامی اسکول میں بچوں کی تعلیم متاثر کی گئی اور تدریسی سرگرمیاں بند کروا دی گئیں۔ ذرائع کے مطابق اس سے قبل ایم پی اے ڈاکٹر کھٹومل اور ایم پی اے رانا ہمیرا سنگھ کی جانب سے کرائے گئے فیصلے پر بھی عمل درآمد نہ ہو سکا۔ بعد ازاں ایم پی اے سندھ اور بلاول ہاؤس کے ترجمان سریندر ولاسائی کے علاقے کے دورے کے ایک روز بعد ارباب محمد عالم اور راہول جیون فریقین کے درمیان صلح اور فیصلہ کرانے کے لیے گاؤں پہنچے، تاہم مذاکرات کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔ میگھواڑ برادری کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ ان کے بنیادی مطالبات تسلیم کرنے سے انکار کیا گیا، جس کی وجہ سے کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ تمام اختیارات اور سہولیات ایک ہی فریق کے حوالے کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس پر انہیں شدید تحفظات ہیں۔ دوسری جانب مذاکرات میں شامل رہنما بغیر کسی حتمی فیصلے کے واپس روانہ ہو گئے، جبکہ متاثرہ فریقین نے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی منصفانہ تحقیقات کر کے انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔ واضح رہے کہ ان الزامات کے حوالے سے ٹھکر برادری یا دیگر متعلقہ فریقین کا مؤقف سامنے نہیں آ سکا، جس کے باعث معاملے کی حقیقت جاننے کے لیے مزید تحقیقات ضروری ہیں۔



