ڈیپلو کے قریب استادنہ ہونے کے باعث پرائمری اسکول بند،سیکڑوں بچوں کی تعلیم متاثر، بنیادی سہولیات کا فقدان

تھرپارکر(جانوڈاٹ پی کے)تھرپارکر کے تعلقہ ڈیپلو کے قریب واقع قدیم گاؤں ڈیڑو، جو تقریباً 300سے400گھروں پر مشتمل ہے،آج بھی بنیادی تعلیمی سہولیات سے محروم ہے۔گاؤں والوں کے مطابق SEMIS کوڈ نمبر406020366والا اسکول شدید خستہ حالی کا شکار ہے، جبکہ اساتذہ اور فرنیچر نہ ہونے کے باعث سینکڑوں بچوں کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اسکول کی عمارت موجود ہونے کے باوجود مناسب دیکھ بھال نہ ہونے سے دن بدن تباہ ہوتی جا رہی ہے، جس کے باعث بچوں کے لیے وہاں بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنا بھی خطرے سے خالی نہیں رہا۔ انہوں نے بتایا کہ گاؤں کے معصوم بچے روزانہ تقریباً 15 کلومیٹر پیدل چل کر ڈیپلو جا کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ کئی بچے سخت حالات کے باعث تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ گاؤں والوں نے کہا کہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے، مگر ان کے بچوں سے یہ حق چھینا جا رہا ہے، جو انتہائی افسوسناک عمل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسکول پر تعینات استاد جمعون لنگھو مبینہ طور پر خودکشی کے باعث انتقال کر گئے تھے، جس کے بعد تاحال نیا استاد مقرر نہیں کیا گیا، جس کے باعث اسکول عملی طور پر بندش جیسی صورتحال کا شکار ہے۔ احتجاج کرتے ہوئے گاؤں والوں نے مطالبہ کیا کہ دیڑو کے اسکول میں فوری طور پر مستقل اساتذہ مقرر کیے جائیں، اسکول کو پرائمری سے سیکنڈری سطح تک اپ گریڈ کیا جائے، عمارت کی مرمت کرائی جائے اور پینے کے صاف پانی سمیت تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ان کے بچوں کو تعلیم جیسا بنیادی حق فراہم نہ کیا گیا تو وہ احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے پر مجبور ہوں گے۔ رپورٹس کے مطابق علاقے کے سماجی رہنماؤں، جن میں ساجن گاگنانی سمیت دیگر ذمہ دار افراد شامل ہیں، نے حکام سے معاملے کا فوری نوٹس لے کر عملی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔



