پاکستان کے تجارتی خسارے میں مزید اضافہ

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس ہوا جس دوران معاشی ماہرین نے پری بجٹ بریفنگ دیتے ہوئے بتایا 9 ماہ کےدوران پاکستان کا تجارتی خسارہ 32ارب ڈالرسےزیادہ ہے ۔ چیئرمین کمیٹی سید نویدقمرکے ریمارکس بولے ایک وقت تھا جب کہا جاتا تھا کہ نیب اور پاکستان ساتھ نہیں چل سکتےاب ایف بی آر اور پاکستان ساتھ نہیں چل سکتے ۔
تفصیلات کے مطابق بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ پہلے نارمل ٹیکس رجیم تھا پھر ایک فیصد سسٹم آیا اب دونوں لاگو ہیں،چیئرمین کمیٹی سید نوید قمر نے کہا کہ ایک وقت تھا جب کہا جاتا تھا کہ نیب اور پاکستان ساتھ نہیں چل سکتے،اب ایف بی آر اور پاکستان ساتھ نہیں چل سکتے۔پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف مارکیٹ اکانومی (پرائم) کے ایم ڈی کی علی سلمان نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ 4 سال سے گروتھ ریٹ مثبت سمت میں جارہا ہے، اس وقت ملک کے زر مبادلہ ذخائر 22.58 ارب ڈالر ہیں،اسٹیٹ بینک کے پاس ساڑھے 17 ارب ڈالرز کے ذخائر ہیں،اس وقت ملک کا 324 ملین ڈالرز کا خسارہ ہے، مہنگائی کا پارہ اب ڈبل ڈیجیٹ میں ہے اور یہ بڑھے گا، ایف بی آر کا ٹیکس شارٹ فال اس وقت 610 ارب کا ہے،فی کس آمدن 5 لاکھ 33 ہزار روپے ہے جو 2015 کی نسبت کم ہے،اس سال اب تک 33.86 ارب ڈالرز کی ترسیلات زر آچکی۔
انہو ں نے بتایا کہ اخراجات کنٹرول کرنے میں حکومت نے کچھ بہتری دکھائی ہے،گزشتہ سال کے مقابلے میں ملک کی مالی کارکردگی ملی جلی رہی،مجموعی آمدن کی شرح نمو 10.9 فیصد سے کم ہو کر 10 فیصد رہی، ٹیکس وصولیوں کی شرح 7 فیصد سے کم ہو کر 4 فیصد ریکارڈ کی گئیں، ماہ میں نان ٹیکس آمدن 4 فیصد سے کم ہو کر 3.4 فیصد رہی، جولائی تا مارچ صوبائی منتقلیاں بھی منفی 4 فیصد پر برقرار رہیں، خالص آمدن کی شرح نمو 6.51 فیصد سے کم ہو کر 6 فیصد آگئی،9 ماہ کے دوران مجموعی اخراجات 9 فیصد سے کم ہو کر 8 فیصد رہے،مالی خسارہ 3 فیصد سے بہتر ہو کر 2 فیصد کی منفی سطح پر آگیا،صوبائی سرپلس 1 فیصد سے بڑھ کر 1.3 فیصد ہوگیا،مجموعی خسارہ منفی 2 فیصد سے بہتر ہو کر منفی 0.7 فیصد رہا،پرائمری بیلنس 3.7 فیصد سے کم ہو کر 3.2 فیصد ریکارڈ کیا گیا،گزشتہ ایک سال کے دوران شرح سود میں کمی آئی،2023 میں ڈیٹ سروسنگ ٹو ریونیو 90 فیصد کو بھی عبور کر گیا تھا،اس وقت ڈیٹ سروسنگ ٹو ریونیو 57.36 فیصد پر آچکا ہے۔



