آزادکشمیر ہنگامی صورتحال،حکومت اور ایکشن کمیٹی کا سخت ٹاکرا

مظفر آباد(خصوصی رپورٹ:جانو ڈاٹ پی کے)آزاد جموں و کشمیر میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے 9 جون کو احتجاج کی کال کے پیش نظر حکومت نے انٹرنیٹ اور موبائل سروسز بند کر دی ہیں، جبکہ پلندری کے قریب ڈھل چیک پوسٹ پر تعینات قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو مشتعل مظاہرین کی جانب سے یرغمال بنائے جانے کی افسوسناک اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
پولیس حکام کا دعویٰ ہے کہ گرفتار کیے گئے 72 کارکنان سے اسلحہ اور مشکوک دستاویزات برآمد ہوئی ہیں اور ان کے غیر ملکی عناصر سے روابط کے اشارے ملے ہیں۔ انتظامیہ کا موقف ہے کہ یہ گروہ ریاست میں انتشار پھیلا کر معمولات زندگی مفلوج کرنا چاہتا ہے۔ دوسری جانب آزاد کشمیر کے وزیراعظم کا کہنا ہے کہ 38 میں سے 35 مطالبات تسلیم کیے جا چکے ہیں، اب صرف چند نکات پر مذاکرات باقی ہیں، اس کے باوجود احتجاج کی ضد ریاست کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔
اس ساری صورتحال میں آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ بھی 12 مہاجر نشستوں کے خاتمے سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت کر رہی ہے، جس کا فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے۔ حکام نے تنبیہ کی ہے کہ اگر یرغمال اہلکاروں کو نقصان پہنچایا گیا تو سخت ترین سیکیورٹی آپریشن شروع کیا جائے گا۔ ریاست کی رٹ برقرار رکھنے اور مزید خونریزی سے بچنے کے لیے عوامی حلقوں کی جانب سے احتجاج موخر کر کے مذاکرات کی میز پر واپسی پر زور دیا جا رہا ہے۔




