اسرائیل کو مستقبل میں خانہ جنگی یا مکمل تباہی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے،سی آئی اے رپورٹ

نیویارک(جانوڈاٹ پی کے)امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی ایک خفیہ اسسمنٹ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اسرائیل کو مستقبل میں خانہ جنگی اور مکمل تباہی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
امریکی تحقیقاتی نیوز ویب سائٹ ڈراپ سائٹ کی رپورٹ کے مطابق غزہ میں برسوں سے جاری نسل کشی اور لبنان و ایران کے ساتھ جنگ کی وجہ سے اسرائیل کے اندر گہری ہوتی سیاسی، معاشی اور سماجی دراڑوں کے باعث اسے خانہ جنگی یا ریاستی سطح پر مکمل تباہی کا خطرہ لاحق ہے۔
ڈراپ سائٹ کے مطابق ’اندرونی دراڑیں‘ (Fracture From Within) کے عنوان سے اگست میں تیار کی گئی یہ رپورٹ سی آئی اے کے ‘ریڈ سیل’ کے ماہرین نے مرتب کی ہے۔
ڈراپ سائٹ نیوز کو رپورٹ کے مندرجات بتانے والے دو امریکی ذرائع کے مطابق ‘ریڈ سیل’ سی آئی اے کے اندر ’متبادل تجزیہ‘ فراہم کرنے کا ذمہ دار ہے۔
اس رپورٹ میں اوپن سورس معلومات اور امریکی انٹیلی جنس دونوں کا سہارا لیا گیا ہے، یہ جائزہ بظاہر صرف اسرائیل کے یہودی شہریوں پر مرکوز ہے اور اس میں ان 20 فیصد فلسطینی شہریوں کو شامل نہیں کیا گیا جو ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ‘نسل پرستی’ کے ایک وسیع نظام کے تحت امتیازی سلوک کا شکار ہیں۔
سی آئی اے کے ماہرین نے 27 اکتوبر کو اسرائیل میں ہونے والے انتخابات کے تناظر میں اسرائیل کو درپیش مختلف مسائل کی نشاندہی کی ہے۔ ان میں معاشی بحران اور ہوشربا فوجی اخراجات، طویل جنگوں سے واپس آنے والے شدید نفسیاتی صدمات کا شکار فوجی، فوجی سروس سے استثنیٰ حاصل کرنے والے کٹر قدامت پسند (الٹرا آرتھوڈوکس) یہودیوں کے خلاف بڑھتا ہوا غصہ، مقبوضہ مغربی کنارے میں آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد اور اقتدار پر قبضہ برقرار رکھنے کی کوشش میں آئینی بحران کو ہوا دینے والے وزیرِ اعظم نیتن یاہو شامل ہیں۔
ویب سائٹ کے مطابق سی آئی اے کی ‘ریڈ ٹیمز’ کا کام ایسے تجزیات اور خیالات سامنے لانا ہے جو روایتی مفروضوں کو چیلنج کرتے ہوں۔ انٹیلی جنس کمیونٹی کے ایک ذریعے کا کہنا تھا کہ اس رپورٹ کو لکھنے والے اسرائیل سے متعلق امورکے ماہرین ہیں اور یہ رپورٹ کوئی خیالی پلاؤ نہیں ہے۔
ذرائع کے کہنا ہے کہ انتخابات کی آمد اور اسرائیل کے اندر موجود دراڑوں کو دیکھتے ہوئے اس تجزیے کو سنجیدگی سے لینا چاہیے کہ اسرائیل ایک حقیقی اندرونی تنازع کے بہت قریب ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست میں سب سے گہری دراڑ جنگی جرائم کی مخالفت پر نہیں، بلکہ اس بات پر پڑی ہے کہ کسے لڑنے کے لیے بھیجا جا رہا ہے اور کسے استثنیٰ حاصل ہے۔ الٹرا آرتھوڈوکس مردوں کو تاریخی طور پر فوجی سروس سے وسیع استثنیٰ کے ساتھ ساتھ ریاستی مراعات بھی ملتی رہی ہیں لیکن بار بار ریزرو فوجیوں کی طلبی کے باعث اب یہ استثنیٰ شدید متنازع ہو چکا ہے۔
الٹرا آرتھوڈوکس رہنماؤں کا استدلال ہے کہ فوجی سروس ان کی مذہبی زندگی اور تورات کے مطالعے کی ذمہ داری کے لیے خطرہ ہے تاہم اپنا کام کاج اور خاندان چھوڑ کر بار بار جنگ میں جانے والے ریزرو فوجیوں میں اس تفریق پر شدید غصہ پایا جاتا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی عوام کو اسرائیل کی جنگی پالیسیوں کی بھاری معاشی قیمت بھی چکانی پڑ رہی ہے۔ خوراک کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہیں اور گزشتہ دو سالوں میں پھلوں اور سبزیوں سمیت اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں 9.5 فیصد اضافہ ہوا ہے جس نے جنگ زدہ معیشت میں مہنگائی اور اخراجاتِ زندگی کے بحران کو مزید سنگین کر دیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو کی مخالفت کرنے والے بھی فلسطینیوں پر مظالم کے خلاف نہیں ہیں بلکہ اس بات پر ناراض ہیں کہ نیتن یاہو نے اس جنگ کو کس طرح سنبھالا۔ نیتن یاہو مخالف صیہونی سیاسی جماعتیں خود قیادت اور سیاسی اتحاد کی حکمتِ عملی پر تقسیم ہیں، جبکہ نیتن یاہو پر تنقید کا بنیادی موضوع 7 اکتوبر کی سیکیورٹی ناکامی ہے۔
حالیہ سروے کے مطابق نیتن یاہو اور ان کے مخالف بلاک دونوں کے ہی حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستیں حاصل کرنے واضح امکانات نہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل کو عالمی سطح پر بھی بڑھتی ہوئی تنہائی کا سامنا ہے۔ اس میں امریکا میں کم ہوتی ہوئی حمایت بھی شامل ہے جسے خود اسرائیلی حکام بھی نجی محفلوں میں ایک طویل المدتی خطرہ قرار دیتے ہیں۔ اس رپورٹ میں اسرائیل کے تیزی سے ایک ناپسندیدہ ریاست بننے کو بھی ریاست کی ممکنہ تباہی کا ایک سبب قرار دیا گیا ہے۔
سی آئی اے کی اس رپورٹ میں اس بات کا بھی جائزہ لیا گیا ہے کہ اگر اسرائیل کا اندرونی بحران مزید گہرا ہوتا ہے تو یہ دباؤ کس طرح اپنا رنگ دکھائے گا اور کس طرح محض ایک چنگاری سیاسی دراڑ کو کھلی خانہ جنگی میں بدل سکتی ہے۔ ان منظر ناموں میں غیر ملکی ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کا اسرائیل سے اپنی سرمایہ کاری یا عملے کو نکالنا شامل ہے جس سے خستہ حال معیشت مزید تباہ ہو جائے گی۔
اس کے علاوہ علاقائی حکومتیں اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی اسٹریٹجک اہمیت پر نظرِ ثانی کر سکتی ہیں اور حماس یا حزب اللہ داخلی کمزوری کے اس دور کا فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔



