سیکیورٹی خدشات: چین کا واخان کوریڈور کھولنے سے انکار، طالبان حکومت کو دھچکا

بیجنگ (ویب ڈیسک)چین نے سیکیورٹی خدشات کے باعث افغانستان کے ساتھ واخان کوریڈور کھولنے سے انکار کر دیا ہے، جس سے طالبان حکومت کی جانب سے اس راستے کو تجارتی اور سفارتی روابط کے لیے استعمال کرنے کی کوششوں کو دھچکا لگا ہے۔

افغان جریدے اطلس پریس نیوز ایجنسی کے مطابق چین نے افغانستان کے ساتھ سرحد کھولنے کے معاملے پر سیکیورٹی خدشات دور ہونے تک پیش رفت سے گریز کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی کے ممکنہ خطرات نے ہمسایہ ممالک کی سلامتی کے حوالے سے تشویش بڑھا رکھی ہے۔

رپورٹ کے مطابق چین نے واخان روڈ کی افتتاحی تقریب میں شرکت نہیں کی اور نہ ہی اس منصوبے کو سفارتی سطح پر باضابطہ طور پر تسلیم کیا۔ چین کو سرحدی سیکیورٹی کے حوالے سے خدشات لاحق ہیں، جبکہ وہ مشرقی ترکستان اسلامک موومنٹ کو اپنے صوبے سنکیانگ کے لیے خطرہ تصور کرتا ہے۔

چینی ماہرِ بین الاقوامی امور ژو یونگ بیاو کے مطابق واخان سرحدی گزرگاہ کھلنے کے امکانات انتہائی کم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چین کے لیے افغانستان کے ساتھ تجارت کے ممکنہ فوائد محدود ہیں، جبکہ سیکیورٹی خطرات اور متعلقہ اخراجات زیادہ ہیں۔

واخان کوریڈور افغانستان کے شمال مشرقی علاقے میں واقع ایک تنگ زمینی پٹی ہے جو چین کی سرحد تک پہنچتی ہے۔ اس راستے کو فعال بنانے کی کوششیں خطے میں تجارتی روابط کے لیے اہم سمجھی جاتی ہیں، تاہم سرحدی سیکیورٹی سے متعلق خدشات اس پیش رفت میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ چین کی جانب سے واخان کوریڈور کھولنے سے متعلق فیصلے اور اس کے پس منظر میں بیان کردہ وجوہات کی تفصیلات افغان جریدے کی رپورٹ سے منسوب ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button