کوکین کوئین اسکینڈل:سابق وزیر زادی اورموجودہ ایم این اے کابیٹا ملوث،لاہور کا بااثر پولیس افسر بنکاک فرار!

لاہور(جانوڈاٹ پی کے)خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے)پاکستان کے سب سے بڑے منشیات سکینڈل "کوکین کوئین” کیس میں روزانہ رونگٹے کھڑے کر دینے والے سنسنی خیز حقائق سامنے آ رہے ہیں،جس نے ملکی بیوروکریسی، سیاستدانوں اور سیکیورٹی اداروں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ سینئر کرائم رپورٹر اور صحافی شکیل ملک نے اپنے تازہ ترین وی لاگ میں دھماکہ خیز انکشاف کیا ہے کہ کراچی سے تعلق رکھنے والی ایک انتہائی بااثر سابق خاتون وفاقی وزیر (جو اس وقت ملک کے اعلیٰ ترین ادارے کی رکن ہیں) کی جوان سالہ بیٹی اور سندھ سے تعلق رکھنے والے ایک مستقل ایم این اے کے بیٹے کی اچانک ہونے والی اموات کا سراغ اس پنکی گینگ سے جا ملا ہے، جس کے بعد صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کی ہدایت پر اس مافیا کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن شروع کیا گیا ہے۔ مقتدر حلقوں کے بچوں کو کوکین کی لت لگا کر موت کے منہ میں دھکیلنے پر اب اس گینگ کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔
اس ہائی پروفائل کیس میں اداروں کی "مجرمانہ غفلت” اور کالی بھیڑوں کا کٹھ جوڑ بھی بے نقاب ہو گیا ہے۔ انمول عرف پنکی کو ماضی میں گرفتار کرنے والے لاہور پولیس کے این آئی یو (Narcotics Investigation Unit) کے سابق سربراہ اور بااثر انسپیکٹر رانا ناصر اکرام مبینہ طور پر کارروائی کا خطرہ بھانپتے ہوئے ملک سے فرار ہو کر بینکاک پہنچ چکے ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ماضی میں 7 کروڑ روپے رشوت کے عوض پنکی کو چھوڑا اور بعد میں اس سے خفیہ ناقابلِ اندراج نکاح بھی کر لیا۔ انمول عرف پنکی اتنی شاطر وارداتی نکلی کہ اس نے اپنا کریمنل ریکارڈ مٹانے کے لیے اپنے فنگر پرنٹس تک جلا دیے تھے اور لاہور کے ایک نجی بینک میں پرائیویٹ کمپنی کے لیٹر ہیڈ پر محض 58 ہزار روپے کا جالی سیلری اکاؤنٹ کھلوا کر اس کے ذریعے کروڑوں روپے کی ٹرانزیکشنز اور انٹرنیشنل منی لانڈرنگ کرتی رہی، جس کا موازنہ ماضی کے ماڈل ایان علی کیس سے کیا جا رہا ہے۔ اس گینگ کی گوادر اور کراچی کی مہنگی ترین ہاؤسنگ سوسائٹیز میں کروڑوں کی بے نامی جائیدادیں بھی سامنے آئی ہیں۔ شکیل ملک کی اس سنسنی خیز اور چشم کشا رپورٹ کو مکمل دیکھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔




