بورےوالا کار:رینٹ کے نام پر بڑا کھیل! گاڑیاں رینٹ پر لینے کے بعد خیبر پختونخوا پہنچانے کا انکشاف

بورےوالا (رپورٹ: محمد ریحان خالد سندھو\ جانو ڈاٹ پی کے)کار رینٹ کے نام پر بڑا کھیل! گاڑیاں رینٹ پر لینے کے بعد خیبر پختونخوا پہنچانے کا انکشاف۔مالکان کو گاڑی چھڑانے کے لیے رقم دینے کی پیشکش
بورےوالاشہر میں کار رینٹ کے کاروبار سے وابستہ افراد کے لیے خطرے کی گھنٹی بج گئی۔ایک ایسا گروہ سرگرم ہے جو مختلف رینٹ اے کار مالکان سے گاڑیاں حاصل کرنے کے بعد انہیں آگے خیبر پختونخوا کے علاقوں میں فروخت کر دیتا ہے جہاں سے بعدازاں گاڑیوں کے اصل مالکان کو فون کرکے کہا جاتا ہے کہ آپ کی گاڑی ہمارے پاس ہے اتنی رقم دیں اور گاڑی لے جائیں
ذرائع کے مطابق نعمان منیر ولد عبدالمنیر شناختی کارڈ نمبر: 3120203246259
موبائل نمبر:03298167626
اور احسن منیر
شناختی کارڈ نمبر:3120287374563
موبائل نمبر:03214120041
نامی دو بھائی جو مبینہ طور پر پہلے بہاولپور کے رہائشی تھے اب بورےوالا کے کنال گارڈن میں رہائش پذیر ہیں اور مختلف رینٹ اے کار مالکان سے گاڑیاں حاصل کرنے کے معاملات میں ان کے نام سامنے آ رہے ہیں
اطلاعات کے مطابق رینٹ پر حاصل کی گئی بعض گاڑیوں کو آگے منتقل یا فروخت کیے جانے کے بعد اصل مالکان کو خیبر پختونخوا سے فون موصول ہوئے جس سے معاملہ مزید سنگین اور تشویشناک ہو گیا ہے
یہ صورتحال محض کسی ایک رینٹ اے کار مالک کا نقصان نہیں بلکہ بورےوالا میں کار رینٹ کے کاروبار اور شہریوں کے اعتماد کے لیے بڑا سوالیہ نشان بن چکی ہے
اگر ایسے عناصر واقعی منظم انداز میں گاڑیاں حاصل کرکے آگے منتقل کر رہے ہیں تو ان کے خلاف فوری کارروائی نہ ہونا مزید شہریوں کو نقصان سے دوچار کر سکتا ہے
ایس ڈی پی او بورےوالا سے پرزور مطالبہ ہے کہ اس معاملے کا فوری اور سخت نوٹس لیا جائے نعمان اور احسن کے مالی معاملات رینٹ اے کار مالکان کے ساتھ معاہدوں گاڑیوں کی خرید و فروخت خیبر پختونخوا میں گاڑیوں کی موجودگی اور ان سے متعلق موصول ہونے والی فون کالز کی مکمل تحقیقات کی جائیں
کنال گارڈن میں انہیں مکان کرائے پر دینے والے مالکان سے بھی قانون کے مطابق معلومات حاصل کی جائیں کہ کرایہ داروں کی شناخت اور ریفرنس کیا تھا وہ یہاں کس نوعیت کی سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں اور ان کا کاروباری پس منظر کیا ہے
بورےوالا پولیس اگر بروقت حرکت میں آتی ہے تو ممکنہ طور پر کئی شہریوں کو بڑے مالی نقصان سے بچایا جا سکتا ہے شہریوں کا مطالبہ ہے کہ معاملے کو معمولی سمجھ کر نظرانداز کرنے کے بجائے مکمل تحقیقات کی جائیں اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ملوث افراد کو قانون کی گرفت میں لا کر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے



