چند وفاقی وزراء وزیراعظم کیلئے مشکلات پیدا کر رہے ہیں، آئینی ترمیم سے پہلے بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں،بلاول بھٹو زرداری

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ چند وفاقی وزراء وزیراعظم کیلئے مشکلات پیدا کر رہے ہیں، شاید ان وزراء کا طرز سیاست ایسا ہی ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کسی بھی آئینی ترمیم سے قبل پورے ملک میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے مطالبہ کیا کہ کراچی کے بلدیاتی نظام جیسا بااختیار نظام لاہور اور اسلام آباد میں بھی متعارف کرایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے وہاں بلدیاتی نظام موجود ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن) بلدیاتی انتخابات سے خوفزدہ نظر آتی ہے۔
انہوں نے ایم کیو ایم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے مسائل کا تعلق پیپلز پارٹی سے نہیں بلکہ وفاقی کابینہ میں موجود ان کے اتحادیوں سے ہے جو حقائق کے برعکس بیانات دیتے ہیں۔
بلاول نے کہا کہ اگر اتحادی جماعتیں سمجھتی ہیں کہ ان کے مطالبات پورے نہیں ہو رہے تو انہیں ’لالی پاپ‘ پر اکتفا کرنے کے بجائے حکومت سے علیحدگی اختیار کر لینی چاہیے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ گلگت بلتستان میں حکومت کے قیام کے بعد 90 روز کے اندر بلدیاتی انتخابات کرانے کی کوشش کی جائے گی۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف انتہائی محنت اور لگن سے ملک کو درپیش مشکلات سے نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم کابینہ کے چند ارکان اپنے بیانات اور طرز عمل سے حکومت کے لیے مزید مسائل پیدا کر دیتے ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے نام لیے بغیر کابینہ کے بعض وزرا کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اتحادی جماعتوں اور اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنے کی مثبت کوشش کر رہے ہیں اور ملک کو موجودہ چیلنجز سے نکالنا چاہتے ہیں، لیکن بعض وزرا کے بیانات اور مشورے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو اپنی کابینہ کو کنٹرول کرنا ہوگا، کیونکہ ایک وزیر کچھ اور اور دوسرا کچھ اور بات کرتا ہے، جس سے مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
آزاد جموں و کشمیر کی حالیہ صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے سوال اٹھایا کہ آخر کابینہ میں ایسا وزیر کیوں موجود ہے جو راولاکوٹ کے کشمیریوں کو کشمیری تسلیم نہیں کرتا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پورا ایوان پوچھ رہا ہے کہ ایسے الفاظ کیسے استعمال کیے جا سکتے ہیں، انہوں نے دعویٰ کیا کہ سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے وزیر دفاع کو اپنی بات واپس لینے کا موقع دیا، تاہم وہ اپنے مؤقف پر قائم رہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی وزیر یہ کہے کہ وہ معافی نہیں مانگے گا تو پھر ایسے وزیر کا ساتھ دینا مشکل ہو جاتا ہے۔
ان کے بقول، میاں نواز شریف بھی کشمیر کے مسئلے کو بہتر انداز میں حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لہٰذا ذمہ دار عہدوں پر بیٹھے افراد کو ایسے بیانات سے گریز کرنا چاہیے جو صورتحال میں مزید کشیدگی پیدا کریں۔
انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے بھی کشیدگی کم کرنے کے لیے کردار ادا کیا ہے اور اس معاملے کا ایسا حل نکالا جانا چاہیے جس سے کشمیر کاز کو بھی نقصان نہ پہنچے اور مسئلے کا مستقل حل بھی سامنے آئے۔
بلاول بھٹو زرداری نے مہاجرین کی مخصوص نشستوں کے معاملے پر بھی اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی وزیر یہ دعویٰ کرے کہ وہ جیب میں 12 نشستیں لے کر آتا ہے تو ایسے رویے کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔
بلاول بھٹو زرداری نے بجٹ کی منظوری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عاشورہ سے قبل بجٹ منظور کر لیا جائے کیونکہ کل سے پیپلز پارٹی کے ارکان ایوان میں موجود نہیں ہوں گے۔
اپنی تقریر کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ وزیراعظم شہباز شریف کامیاب ہوں، کیونکہ وزیراعظم کی کامیابی ملک اور عوام کی بہتری کا سبب بنے گی۔



