بلاول بھٹو کی زیرصدارت اہم اجلاس، سندھ کو سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کا علاقائی مرکز بنانے کا فیصلہ

کراچی(جانوڈاٹ پی کے)پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بلاول ہاؤس کراچی میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی، جس میں سندھ میں معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے، بین الاقوامی سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور سندھ کو انفراسٹرکچر، مالیات، ٹیکنالوجی اور پائیدار ترقی کا علاقائی مرکز بنانے سے متعلق مختلف اسٹریٹجک منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، وزیر زراعت سندھ سردار محمد بخش مہر، چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ اور وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری آغا واصف نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ سندھ نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) فریم ورک کے تحت شروع کیے جانے والے تین اہم اسٹریٹجک منصوبوں پر بریفنگ دی۔
اجلاس میں کیٹی بندر انٹیگریٹڈ کوریڈور کا جائزہ لیا گیا، جو ایک طویل المدتی منصوبہ ہے اور جس کا مقصد کیٹی بندر کو عالمی معیار کے بحری، لاجسٹکس، صنعتی اور توانائی کے مرکز کے طور پر ترقی دینا ہے۔ اس منصوبے کے تحت جدید بندرگاہی انفراسٹرکچر، لاجسٹکس سہولیات، صنعتی ترقی، توانائی کے منصوبے، ماہی گیری، سیاحت اور دیگر معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے گا، جس سے سندھ کی بحری معیشت مضبوط ہوگی، برآمدات میں اضافہ ہوگا، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری آئے گی۔
اجلاس میں سندھ انٹرنیشنل فنانشل سینٹر (SIFC) کے مجوزہ منصوبے کا بھی جائزہ لیا گیا، جس کا مقصد انفراسٹرکچر فنانس، اسلامی مالیات، کلائمیٹ فنانس، مالیاتی ٹیکنالوجی، بین الاقوامی تجارتی خدمات، تنازعات کے حل اور عالمی سرمایہ کاری کو فروغ دے کر کراچی کی پاکستان کے مالیاتی مرکز کی حیثیت کو مزید مستحکم بنانا ہے۔ توقع ہے کہ اس منصوبے سے انفراسٹرکچر، ہاؤسنگ، ٹیکنالوجی، صنعتی ترقی اور موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ منصوبوں کے لیے سرمایہ کاری بڑھے گی اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی مضبوط ہوگا۔
اجلاس میں ڈیٹا انفراسٹرکچر انیشی ایٹو بھی پیش کیا گیا۔ اس منصوبے کا مقصد سندھ کے وافر قابلِ تجدید توانائی کے وسائل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی سے چلنے والے ڈیٹا سینٹرز، کلاؤڈ کمپیوٹنگ سہولیات، مصنوعی ذہانت (AI) کا انفراسٹرکچر اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پارکس قائم کرنا ہے۔ اس اقدام کے ذریعے عالمی سطح کی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو سندھ میں سرمایہ کاری کی ترغیب دی جائے گی اور سندھ کو پائیدار ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کا علاقائی مرکز بنایا جائے گا۔
اجلاس کو فارمرز ایگریکلچرل کلیکٹوز سے متعلق ایک منصوبے پر بھی بریفنگ دی گئی۔ وزیر زراعت سندھ سردار محمد بخش مہر نے اس منصوبے پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس کا مقصد چھوٹے کسانوں کو قانونی اور جمہوری بنیادوں پر منظم کرنا، زرعی پیداوار میں اضافہ، باہمی تعاون کو فروغ دینا اور انہیں جدید زرعی سہولیات تک بہتر رسائی فراہم کرنا ہے۔ اس منصوبے کے تحت زرعی مشینری کے مشترکہ استعمال، مؤثر آبی انتظام، قابلِ تجدید توانائی، ڈیجیٹل زرعی مشاورتی خدمات، مارکیٹ تک رسائی، مالی سہولیات اور تکنیکی معاونت کو فروغ دیا جائے گا، جبکہ موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ زراعت، دیہی روزگار اور کسانوں کی آمدنی میں اضافے پر بھی توجہ دی جائے گی۔ اجلاس میں اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ یہ منصوبہ جدید، مؤثر اور اشتراکی کاشتکاری کے ذریعے زرعی شعبے کو مزید مضبوط بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اجلاس میں اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ یہ اسٹریٹجک منصوبے معاشی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ، اعلیٰ معیار کے روزگار کے مواقع، بین الاقوامی سرمایہ کاری، برآمدات کے فروغ اور سندھ و پاکستان کی مجموعی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
تفصیلی غور و خوض کے بعد اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ اس نوعیت کے بڑے منصوبوں پر کامیاب عمل درآمد کے لیے ادارہ جاتی استعداد کو مضبوط بنانے اور خصوصی تکنیکی مہارت کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے اجلاس نے موجودہ PPP یونٹ کو کمپنی میں تبدیل کرنے کی تجویز کی توثیق کی، تاکہ اسے زیادہ انتظامی لچک حاصل ہو اور مارکیٹ سے اعلیٰ صلاحیت کے حامل ماہرین کی خدمات لے کر پیچیدہ اسٹریٹجک PPP منصوبوں کی مؤثر انداز میں قیادت اور انتظام کیا جا سکے۔
مزید یہ بھی طے پایا کہ عالمی شہرت یافتہ ٹرانزیکشن ایڈوائزرز کی خدمات حاصل کی جائیں گی، جو جامع فزیبلٹی اسٹڈیز تیار کریں گے، بین الاقوامی معیار کے مطابق منصوبوں کا ڈھانچہ اور قانونی فریم ورک وضع کریں گے، اور PPP فریم ورک کے تحت ان انقلابی منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے معتبر ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے میں حکومت کی معاونت کریں گے۔
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اسٹریٹجک منصوبے سندھ کی معاشی ترقی اور تبدیلی کے لیے ایک طویل المدتی وژن کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے نجی سرمایہ کاری، جدت طرازی اور پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے عالمی معیار کی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس کے ذریعے سازگار ماحول فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔



