خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کا خمیازہ عوام بھگت رہے ہیں، بلال اظہر کیانی

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی نے ایک بار پھر سر اٹھایا ہے اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال سب کے سامنے ہے، جس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلال اظہر کیانی نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس دن رات دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دے رہی ہے۔ ان کے مطابق آج کرک میں بھی ایک ایس ایچ او اور کانسٹیبل کو شہید کردیا گیا۔
وزیر مملکت نے صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کی مبینہ نااہلی کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر صوبائی حکومت دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کو درکار فنڈز اور اسلحہ فراہم کرنے کے لیے تیار نہیں تو اس کی نیت پر سوالات اٹھتے ہیں۔
بلال اظہر کیانی نے کہا کہ تحریک انصاف کے بعض رہنما کہتے ہیں کہ یہ جنگ ڈالرز کی ہے، تاہم خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے خلاف جنگ کے دوران پولیس اور دیگر فورسز کے اہلکار اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں میں 10 اہلکار شہید ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شہداء کے نام لینا اس لیے ضروری ہے کہ یہ محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ان خاندانوں اور جوانوں کی قربانیاں ہیں جو ملک اور عوام کے تحفظ کے لیے اپنی جانیں داؤ پر لگا رہے ہیں۔
وزیر مملکت نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کے دوران خیبرپختونخوا کی سیاسی قیادت کو صورتحال کی سنگینی کا احساس کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق پولیس، دیگر سکیورٹی فورسز اور کسٹمز کے اہلکار بھی دہشتگردی کے خلاف فرائض انجام دیتے ہوئے شہید ہو رہے ہیں۔
بلال اظہر کیانی نے کسٹمز اہلکاروں کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شہید انسپکٹر عزیر اعظم گزشتہ سال جولائی میں صوابی میں شہید ہوئے، جبکہ سپاہی محمد راج اور سپاہی جواد خان بھی شہداء میں شامل ہیں۔
انہوں نے خیبرپختونخوا پولیس کے شہداء کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کانسٹیبل سیف اللہ خان، شمع خان، ارشاد مانی، کانسٹیبل احمد شاہ اور فرمان اللہ سمیت پولیس اہلکار دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں۔



